آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے، ایرانی پارلیمنٹ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
ایرانی پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملہ کیا گیا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پارلیمنٹ نے دشمنوں کو واضح وارننگ دیتے ہوئے متفقہ قرارداد پاس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر پر حملہ پورے اسلامی نظام اور ملت پر حملہ شمار ہوگا۔
مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں احتجاج کے دوران اموات کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیدیا
دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے بھی کہاکہ اگر کسی نے خامنہ ای کو نشانہ بنایا تو ایران بھر میں دفاع کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور یہ سرحد عبور کرنے پر خطے میں وسیع جنگ کے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر کے خلاف کوئی بھی حملہ ایرانی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگا۔
واضح رہے کہ سابق امریکی سفیر اسرائیل ڈین شیپیرو نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہ پیش گوئی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والے تشدد کا الزام ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں ایران میں نئی قیادت کی ضرورت پر زور دیا اور 86 سالہ خامنہ ای کو ’بیمار آدمی‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں پُرتشدد احتجاج کے دوران ایرانی مظاہرین کو کہا تھا کہ وہ ملکی اداروں پر قبضہ کرلیں، ان کو مدد پہنچنے والی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آیت اللہ خامنہ ای ایرانی پارلیمنٹ جہاد خبردار کردیا علما فتویٰ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایرانی پارلیمنٹ جہاد خبردار کردیا فتوی وی نیوز ا یت اللہ خامنہ ای سپریم لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔