Islam Times:
2026-06-02@23:35:44 GMT

ٹرمپ کا واویلا، مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

ٹرمپ کا واویلا، مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا

اسلام ٹائمز: اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے چلیں کہ پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی سے خود پاکستان کو بھی چوکنا رہنا چاہیئے۔ ان کی فطرت میں پاکستان کی دشمنی رچی بسی ہے۔ ان کے عقائد میں قائداعظم کو کافراعظم کہنا اور پاک فوج کو ناپاک فوج کہنا شامل ہے۔ یہ امریکی ڈالروں کیلئے ماضی میں بھی ان گنت پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کے لے پالک ان خوارج و منافقین کو ایران کی طرح پاکستان میں بھی ناکام بنانا ساری ملت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بے نقاب ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی سڑکوں پر آگ اور دھواں دیکھ کر پاکستان میں بھی مذکورہ لابی نے جشن منایا۔ ایران اپنے وسیع جغرافیہ، قدرتی وسائل، اسٹریٹجک محلِ وقوع، قدیم تہذیب اور خطے میں ایک باصلاحیت قوم ہونے کی وجہ سے، برسوں سے امریکہ و اسرائیل  کی نظر میں ایک ممکنہ حریف رہا ہے۔ اب اسرائیل کے غزہ پر حملوں نے اس مسابقت کو خونی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں میں بدل دیا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں موجود امریکی و اسرائیلی پراکسیز کو ایران نے کبھی گھاس ہی نہیں ڈالی۔ اس دوران ایران میں منافقین کی مانند پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی بھی ایران کے اسلامی نظام کے خاتمے کے لیے بے تاب نظر آئی۔

امریکہ جیسی استبدادی طاقتیں جو اقوام کے حقِ خودارادیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہیں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے ایک مرتبہ پھر ملت پاکستان پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان لوگوں کے اور  امریکہ و  اسرائیل کے اہداف لازماً ایک جیسے ہیں۔ المختصر یہ کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کا تجربہ بھی ایران میں طاقت کے ڈھانچے کو بدلنے میں فوجی مداخلت کی ناکامی کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی امریکہ میں حکومت کے اندر ایران کے حوالے سے اختلافات موجود رہے۔

ٹرمپ کے بعض مشیر، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں، کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل غیر فوجی حل اور ایرانی حکومت سے مذاکرات پر زور دیتے رہے۔ ایران میں جاری بحران فی الحال تھم تو گیا ہے تاہم ملک گیر احتجاجات، ریاستی کریک ڈاؤن اور امریکہ کی ممکنہ فوجی مداخلت پر ابھی تک بحث جاری ہے۔ منگل، ۱۳ جنوری کو ڈیٹرائٹ کے دورے کے موقع پر سی بی ایس نیوز کو ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ “فتح” کے خواہاں ہیں، اور اس کی وضاحت کے لیے انہوں نے وینزویلا میں نکولس مادورو، عراق میں ابوبکر البغدادی، پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مثالیں پیش کیں۔ وہ مسلسل واویلا مچا رہے تھے کہ مجھے پکڑو نہیں تو میں ماروں گا۔

اسی دوران ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ “مدد راستے میں ہے”۔ یاد رہے کہ پاک بھارت جنگ کے موقع پر کئی مرتبہ امریکی صدور نے ایسے اعلانات پاکستان کی مدد کیلئے بھی کئے تھے۔ ابھی تک وہ مدد بھی راستے میں ہی ہے۔ موجودہ بحران میں وائٹ ہاؤس نے بھی اعلان کیا کہ امریکی صدر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس میں بھی بعض ریپبلکن رہنماؤں کا لہجہ شرمناک حد تک مزید سخت ہوگیا۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈزی گراہم کا دعویٰ تھا کہ ایران میں مظاہرین اس یقین کے ساتھ سڑکوں پر نکلے ہیں کہ انہیں واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے ساتھ ہی یورپ کی طرف سے بھی قابلِ ذکر ردِعمل سامنے آیا۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن کے دورے کے دوران اپنے ملک کے چانسلر فریڈرک میرس کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “تہران میں برسرِ اقتدار قیادت اب کسی قسم کی مشروعیت نہیں رکھتی”۔ میرس اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ ان کے خیال میں اسلامی جمہوریہ اپنے “آخری دنوں اور ہفتوں” میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے مضحکہ خیز بیانات آئے روز جاری ہوتے رہے۔ امریکہ و یورپ نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے فوجی مداخلت کا بین بھی بجایا۔ یہ ایران کے قومی موقف کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ تھی۔

ایران کی مضبوط اعصاب کی مالک حکومت نے اس نفسیاتی جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں نہ تو ایران میں طاقت کا ڈھانچہ بدلا اور نہ ہی امریکی و اسرائیل  اور یورپ نے ایرانی عوام کو کوئی معاشی فائدہ پہنچایا اور نہ ہی منافقین کی کوئی قابلِ ذکر مدد کی۔ حالیہ احتجاجات کو ایرانی حکومت کی طرف موڑنے میں امریکہ و اسرائیل نیز یورپ کی ناکامی اور ایران کے ساتھ اسرائیل کی بارہ روزہ جنگ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل اور ان کی پاکستان سمیت ساری دنیا میں موجود پراکسیز کے مقابلے میں ملتِ ایران بہت زیادہ مستحکم و مضبوط ہے۔ لہٰذا  اقتصادی پابندیوں اوراحتجاجات کے ذریعے ایران میں اسلامی نظام کی کمزوری یا کسی فوجی حملے کے ذریعے رجیم کی تبدیلی امریکہ و اسرائیل کیلئے ممکن نہیں۔

"عورت، زندگی، آزادی، روٹی، کپڑا  اور مکان " یہ سب نعرے ایرانی عوام کو فریب نہیں دے پائے۔ ایران کی سول سوسائٹی، چاہے وہ اندرونِ ملک ہو یا بیرونِ ملک، کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایران کو تھالی میں رکھ کر امریکہ و یورپ کو پیش کر دے۔ ایرانی عوام کے اندر اسلامی انقلاب کے عنوان سے ایک ایسا ہمہ گیر اور جامع اتحاد موجود ہے  جسے استعماری طاقتیں متزلزل کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔ ایرانی عوام بخوبی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت کا خاتمہ یقینی طور پر ایک ایسا  خلاء پیدا کرے گا، جسے استعمار کی لے پالک سیاسی، سفارتی ، سکیورٹی اور عسکری قوتیں پُر نہیں کر پائیں گی۔ جو کچھ  افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں امریکی فوجی حملوں کے بعد رونما ہوا وہ سب ایرانی عوام کے سامنے ہے۔

امریکہ نے سارے خطے کے ممالک کے لیے نہایت تلخ اسباق چھوڑے ہیں۔ جہاں بھی امریکی مداخلت کے باعث عوام کو  اپنے مستقبل کے تعین میں آزادانہ اور خودمختار کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بدترین اور تاریک انجام سے دوچار ہوئے۔ لہذا جب بھی امریکہ کسی فوجی کارروائی کی غلطی کرے گا تو ایرانی عوام اُسے خوش آمدید کہنے کے بجائے امریکہ کے تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، یہ ردِّعمل ساری دنیا میں متوقع ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی صورتِ حال کے نتائج  امریکہ کیلئے انتہائی تباہ کن اور پریشان کُن ہوں گے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران میں کوئی بڑی فوجی مداخلت لازماً اسلامی جمہوریہ کے بجائے اسرائیل کے خاتمے پر منتج ہوگی چونکہ ایران کے عوام، آخری سانس تک اپنی سرزمین اور قدرتی وسائل کا تحفظ کریں گے۔

ایرانی عوام کے مضبوط قومی نظریات اور انقلابی تاریخ کے باعث امریکہ کیلئے ایران ہرگز عراق، شام یا وینزویلا ثابت نہیں ہوگا۔ اس لئے امریکہ و اسرائیل کو “فوجی مداخلت کا سودا” بہت مہنگا پڑے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ امریکی ہٹ دھرمی کے باعث آج بدقسمتی سے بین الاقوامی برادری کی آواز رفتہ رفتہ دب چُکی ہے۔ وہ برادری جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگی مجرموں کے لیے منصفانہ عدالتیں قائم کیں، اقوامِ متحدہ کی بنیاد رکھی، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ مرتب کیا، اور جس نے اقوامِ عالم کو فلاحی ریاستوں اور یورپی یونین جیسے اداروں کی تشکیل کے ذریعے ایک بہتر ین دنیا کا خواب دکھایا تھا، آج وہ محض چند شاندار عمارتوں، کچھ  ملازمین اور مذمتی یا حمایتی بیانات کے انبار تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

بین الاقوامی برادری کو امریکہ کے مقابلے میں ایرانی عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی اور بشر دوستانہ رویہ اپنانا چاہیئے تاکہ ایرانی قوم کی خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کا تحفظ قائم رہے۔ امریکی آمریت اور استبداد کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے باشعور عوام کی شاندار جدوجہد، ان کے پُرامن مزاحمتی طریقوں، اپنے نظام کی حمایت میں مظاہرین کی سڑکوں پر مسلسل موجودگی اور روز بروز بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی ہمّت  کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ایران میں ایرانی عوام کے نصب العین کے مطابق اسلامی نظام کا مستقبل نہایت ہی روشن اور امید افزا ہے۔

آخر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے چلیں کہ پاکستان میں موجود امریکی و صہیونی لابی سے خود پاکستان کو بھی چوکنا رہنا چاہیئے۔ ان کی فطرت میں پاکستان کی دشمنی رچی بسی ہے۔ ان کے عقائد میں قائداعظم کو کافراعظم کہنا اور پاک فوج کو ناپاک فوج کہنا شامل ہے۔ یہ امریکی ڈالروں کیلئے ماضی میں بھی ان گنت پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کے لے پالک ان خوارج و منافقین کو ایران کی طرح پاکستان میں بھی ناکام بنانا ساری ملت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔  ہمیں بھی چاہیئے کہ ہم ایرانی عوام کی طرح اپنے وطن کی حفاظت کیلئے متحد ہو جائیں۔ اگر ہم پاکستان کے دفاع کیلئے  متحد ہو جائیں تو پھر بے شک ٹرمپ یہ واویلا مچاتا رہے کہ مجھے پکڑو ! مجھے پکڑو! نہیں تو میں ماروں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ و اسرائیل اسلامی جمہوریہ ایرانی عوام کے اسلامی نظام فوجی مداخلت پاکستان کی اسرائیل کے میں ایران ایران میں کہ ایران ایران کے کو ایران ایران کی کے خلاف میں بھی کے ساتھ اور ان کی طرف کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام