بالی ووڈ کی پروپیگنڈہ فلم دھرندھر کے سیکوئل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی رنویر سنگھ کے ہمراہ وکی کوشل کو بھی شامل کرنے کی خبریں زیر گردش ہیں۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وکی کوشل ادیتیا دھر کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’ اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ میں اپنے کردار میجر وہان سنگھ شیرگل کو ایک بار پھر نبھاتے نظر آئیں گے۔ 

ادیتیا دھر کی آنے والی ایکشن فلم دھرندر کی شاندار کامیابی کے بعد اس کا سیکوئل بنانے کا فیصلہ کیا جو رواں سال کے آغاز میں ہی ریلیز کی جائے گی جس کا شائقین کا بے صبری سے انتظار ہے۔ 

بھارتی رپورٹ کے مطابق وکی کوشل بھی اس ایکشن ڈراما کی کاسٹ کا حصہ بننے جا رہے ہیں جب کہ فلم کی کاسٹ میں آر مادھون، سنجے دت اور ارجن رامپال بھی شامل ہیں۔

مڈ ڈے سے بات کرتے ہوئے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ ہدایتکار اس بات پر خاموش ہیں کہ وہ فلم میں کس طرح کے بڑے ستارے شامل کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہدایتکار دھرندھر کو بھی دیگر فلموں کی طرح (یونیورس) بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور وہ کہانی کے مختلف ٹائم لائن ہونے کے باوجود فلم ’اڑی‘ کو بھی اس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

وکی کوشل نے 2016 میں بننے والی فلم ’اڑی‘ جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا فلم تھی، اس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والی وکی کوشل بھی اس فلم کے سیکوئل میں دکھائی دیں گے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وکی کوشل کا کردار رنویر سنگھ کے کردار سے ملتا ہے یا نہیں 

یاد رہے کہ وکی کوشل اس فلم میں میجر وہان شیرگل کے کردار میں نظر آئیں گے، جو انہوں نے ادیتیا دھر کی پہلی ہدایتکاری فلم اُری: دی سرجیکل اسٹرائیک میں ادا کیا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ وکی کوشل نے دھرندھر کی ریلیز سے قبل ہی گزشتہ سال اپنے مناظر کی شوٹنگ مکمل کر لی تھی۔

دوسری جانب، شائقین کو فلم کے سیکوئل میں اکشے کھنہ کے کردار کی صرف جھلکیاں نظر آئیں گی، جو چند فلیش بیک مناظر تک محدود ہوں گی جو پہلے ہی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔  

واضح رہے کہ دسمبر میں ریلیز ہونے والے دھرندھر ابھی تک سینما گھروں میں شائقین کو محظوظ کر رہی ہے جب کہ دھرندر کا سیکوئل 19 مارچ 2026 کو سینما گھروں کی زینت بنے گی اور ہدایت کاروں کا ارادہ ہے فروری میں فلم کا ٹریلر جاری کردیا جائے گا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وکی کوشل

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار