فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد:
اسپیشل جج سینٹرل نے فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔
اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس پر سماعت کی، نجف حمید کی جانب سے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے درخواست کی کاپی نجف حمید کے وکلاء کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ معاون وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت دلائل کے لیے وقت دے، سینیئر کونسل دلائل دیں گے۔
مزید پڑھیںسابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی کیخلاف مقدمہ درج
عدالت نے کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ نجف حمید کی ضمانت عدالت نے صلح کی بنیاد پر منظور کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حمید کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔