وکیل کا پاسپورٹ استعمال کرکے جعلساز بھارت پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں سینیٹر افنان اللہ نے وکیل سے جعلسازی کا معاملہ اٹھایا
مجھے والدین کو نادرا لے جا کر اپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑا،متاثرہ وکیل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اس موقع پر کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ وکیل کی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز بھارت پہنچ گیا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ میں سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعلسازی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعلساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا۔ متاثرہ وکیل یہاں موجود ہے اس سے پوچھ لیں۔ متاثرہ وکیل نے کہا کہ ایک شخص میری شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے بھارت پہنچ گیا، اس شخص کی وجہ سے مجھے میرے والدین کو نادرا لے جا کر اپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑا۔ڈی جی پاسپورٹس نے کہا نادرا نے کئی ایسی جعل سازیوں کا معاملہ ہم سے شیٔر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس سے جعلسازی سے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن ہو۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا نادرا سے شناخت کیسے چوری ہوگئی، ڈیٹا چوری کیسے ہوا؟ ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ پر شیٔر کرتے ہیں وہاں سے لیک ممکن ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا نادرا نے کئی افغان نیشنل اور دہشتگردوں کو بھی شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے۔ ڈی جی پاسپورٹ نے کہا یہ کیس 2023 میں ہوا لیکن اب نادرا اور پاسپورٹس میں جدت لے آئے ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ نادرا، بینک اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے، کسی بھی شہری کا ڈیٹا خریدنا ہو تو 500 روپے میں مل جاتا ہے۔ محکمے کے اندر سے کسی کے ملوث ہوئے بغیر اس لیول پر ڈیٹا چوری ممکن نہیں۔ ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ گارنٹی دیتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اب کسی کاجعلی پاسپورٹ نہیں بن سکتا۔ متاثرہ وکیل نے کہا میرے پاس دہری شہریت ہے، سفر کیلئے برطانوی پاسپورٹ کا استعمال کرتا ہوں، ایک سال سے ڈی جی پاسپورٹس سے ملنے کا انتظار کر رہا ہوں۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان سائبر سیکیورٹی سے متعلق اتھارٹی لا رہی ہے، افنان اللہ کو بھیجیں ہم ان کو نادرا پر بریف کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاسپورٹ استعمال کر بھارت پہنچ گیا ڈی جی پاسپورٹس ڈی جی پاسپورٹ متاثرہ وکیل افنان اللہ نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین