data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاکستانی شہریوں کے حساس ڈیٹا کے چوری ہو کر بیرونِ ملک استعمال اور ویب پر فروخت ہونے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

 اجلاس کے دوران سینیٹرز نے نادرا، پاسپورٹ آفس، بینکوں اور ایف بی آر کے ڈیٹا کے تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ ہونے والی جعل سازی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کے ایک کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ایک جعل ساز 2023 میں بھارت تک پہنچ گیا۔

 انہوں نے کہا کہ متاثرہ وکیل خود پاکستان میں موجود ہے اور کمیٹی چاہے تو اس سے براہِ راست پوچھ گچھ کر سکتی ہے، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شناختی نظام میں سنگین خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر جرائم پیشہ عناصر بیرونِ ملک تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

سینیٹر پلوشہ خان نے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ نادرا جیسے حساس ادارے سے شہریوں کی شناخت کیسے چوری ہو گئی اور ڈیٹا لیک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات شہری خود اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈز کے کوائف واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں، جہاں سے یہ معلومات لیک ہونا ممکن ہے، ان کے اس بیان پر کمیٹی ارکان مطمئن نظر نہیں آئے۔

سینیٹر افنان اللہ نے ڈی جی پاسپورٹس کی وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نادرا، بینکوں اور ایف بی آر کا ڈیٹا اس وقت ڈارک ویب پر موجود ہے، اگر کسی شہری کو کسی کا ڈیٹا خریدنا ہو تو وہ محض 500 روپے میں دستیاب ہے، اس سطح پر ڈیٹا چوری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک متعلقہ محکموں کے اندر سے کوئی فرد یا گروہ اس میں ملوث نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا لیک کا مسئلہ صرف شہریوں کی پرائیویسی تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کا سنگین معاملہ بن چکا ہے۔ حساس معلومات کے غلط استعمال سے جعلی پاسپورٹس، مالی فراڈ اور بین الاقوامی جرائم کو فروغ مل سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کے عالمی تشخص پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اراکین نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ڈیٹا لیک سے متعلق تمام اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں اور ہدایت کی کہ ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں نادرا، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کو طلب کر کے اس معاملے پر مزید تفصیلی بریفنگ لی جائے گی، تاکہ پاکستانی شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اجلاس میں ڈیٹا کے کہا کہ

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف