کتابوں پر پلاسٹک کور کی روک تھام کا بل سینیٹ کمیٹی سے متفقہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک نئی اور خطرناک روایت فروغ پا رہی ہے جس کے تحت کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پر پلاسٹک کور چڑھایا جا رہا ہے، جو ماحول کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک کو مکمل طور پر تلف ہونے میں ایک ہزار سال تک لگ سکتے ہیں، اس لیے اس کا بے دریغ استعمال ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
پلاسٹک کینسر کا سبب بن رہا ہےشیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک مختلف بیماریوں خصوصاً کینسر کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، اس لیے کتاب فروشوں کو ایک واضح ٹائم فریم دیا جانا چاہیے تاکہ وہ پلاسٹک کور کے استعمال کا مکمل خاتمہ کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ کتاب فروشوں اور پبلشرز کو چاہیے کہ وہ کتابوں کو پلاسٹک میں لپیٹنے کا عمل فوری طور پر بند کریں اور ماحول دوست متبادل اپنائیں۔
سینیٹر شیری رحمان کے مطابق دنیا بھر میں اب تک 7 ارب ٹن پلاسٹک کچرا پیدا ہو چکا ہے، جس میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں پلاسٹک کچرے کا صرف ایک فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے، جو خطرناک حد تک کم ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ جب سینیٹ پلاسٹک کے استعمال سے اجتناب کر سکتی ہے تو کتابوں کی دکانیں اور پبلشرز بھی اس روایت کو ختم کر سکتے ہیں۔
بل متفقہ طور پر منظوراجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پلاسٹک کور کی روک تھام سے متعلق پیش کیا گیا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
بل کا مقصد ماحول کے تحفظ اور پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پلاسٹک شیری رحمان کینسر ماحولیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پلاسٹک کینسر ماحولیات شیری رحمان نے کہا پلاسٹک کور پلاسٹک کو کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔