این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی: وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ این آئی سی وی ڈی میں امراض قلب کے مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت این آئی سی وی ڈی کی84 ویں گورننگ باڈی کا اجلاس ہوا جس دوران بریفنگ میں بتایاگیا کہ این آئی سی وی ڈی کو مجموعی طور پر4.
ترجمان کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسرطاہرصغیر نے اجلاس کوبریفنگ دی جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے قومی ادارہ امراض قلب کی قانونی حیثیت بحال کرنےکافیصلہ کیا جب کہ اجلاس میں اسپتال کےمستقبل کے تحفظ اور خدمات کے تسلسل کےلیےاہم فیصلے کیےگئے۔
نیا مغربی سلسلہ کل سندھ میں داخل ہوگا، کراچی میں بارش کب ہوگی؟
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امراض قلب کے مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہسپتال کےآپریشنل امورکےلیے15.5 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی جبکہ ہسپتال میں چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کی فوری تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی کو مالی سال 26-2025 میں 3.5 ارب روپے اضافی گرانٹ کی ضرورت ہے، قانونی ابہام دور کرکے ادارے کو بلا رکاوٹ عوامی خدمت کے قابل بنایاجائےگا۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ا ئی سی وی ڈی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔