اوورسیز پاکستانیوں کیلئے گاڑی کی خرید و فروخت میں بڑی سہولت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
علی ساہی: اوورسیز پاکستانیوں کو گاڑی کی خریداری اور ٹرانسفر کے عمل میں بڑی سہولت دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اب گاڑی کی خرید و فروخت اور منتقلی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق سے ممکن ہو سکے گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور سندھ میں پاک آئی ڈی ایپ پر بائیو میٹرک سسٹم کے آغاز کے بعد پنجاب حکومت بھی متحرک ہو گئی ہے۔ ڈی جی ایکسائز کی جانب سے سسٹم انٹگریشن کیلئے نادرا سے دوبارہ رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ سہولت کو جلد از جلد پنجاب میں بھی متعارف کرایا جا سکے۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
پاک آئی ڈی ایپ میں گاڑی نمبر، چیسز نمبر اور مالک کا نام درج کر کے بائیو میٹرک تصدیق کی جا سکے گی۔ اس سے قبل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو گاڑی ٹرانسفر کیلئے اتھارٹی لیٹر ایمبیسی سے تصدیق کروا کر پاکستان بھجوانا پڑتا تھا، جو ایک طویل اور پیچیدہ عمل تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے منتقلی سے اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر گاڑیوں کی جعلسازی اور غیر قانونی ٹرانسفر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اس وقت بائیو میٹرک میں تاخیر کے باعث ہزاروں گاڑیاں اوپن لیٹر پر چل رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
حکام کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق ایکسائز اور نادرا کے درمیان معاملات پہلے ہی طے پا چکے تھے، اب دونوں اداروں کے سسٹمز کو باہم انٹگریٹ کر کے بائیو میٹرک سہولت جلد فراہم کی جائے گی، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو نمایاں ریلیف ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانیوں پاک آئی ڈی ایپ بائیو میٹرک
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک