سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اقدام کو آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر بدستور نافذ العمل ہے اور کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کینیڈا کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ گلوبل واٹر بینکرپسی پالیسی راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ
سفیر عثمان جدون نے بھارت کے اقدام کو ایسے ملک کا فیصلہ قرار دیا جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
’سندھ طاس معاہدہ ناقابلِ تنسیخ ہے‘پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سفیر جدون نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔
1960 کا سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر برقرار ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپریل گزشتہ سال بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان، اس کے بعد بغیر اطلاع پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں اور ہائیڈرولوجیکل معلومات روکنا، معاہدے کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
پاکستان کی زراعت اور 24 کروڑ آبادی کا انحصارسفیر عثمان جدون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے دریائے سندھ کے نظام کے منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انتظام کے لیے ایک آزمودہ فریم ورک فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ نظام پاکستان کی 80 فیصد سے زائد زرعی پانی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار اور خوراک کا دارومدار اسی پر ہے
#PakistanAtUN
India’s Unilateral Suspension of IWT Threatens Water Security & Regional Stability: Pakistan
– Our Press Release today pic.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) January 21, 2026
خطاب کے دوران سفیر جدون نے کہا کہ پانی کی عدم تحفظ اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی نظامی خطرہ بن چکا ہے، جو خوراک کی پیداوار، توانائی، صحتِ عامہ، روزگار اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کو شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیز رفتار آبادی میں اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جو پہلے سے دباؤ میں موجود آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
پانی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اقداماتسفیر جدون کے مطابق پاکستان آبی لچک (Water Resilience) بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہا ہے، جن میں مربوط آبی منصوبہ بندی، سیلاب سے تحفظ، نہری نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی شامل ہیں، جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے نمایاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بھارتی اقدام غیرقانونی قرار، پاکستان کا خیرمقدم
انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ دریائی نظاموں میں پانی کے خطرات کا مقابلہ کوئی بھی ملک اکیلا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے شفافیت، پیش بینی اور باہمی تعاون کو سرحد پار آبی نظم و نسق کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
سفیر جدون نے مطالبہ کیا کہ 2026 کی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی نظامی خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام کو مشترکہ آبی نظم و نسق کا مرکز بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون بھارت پاکستان سندھ طاس معاہدہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون بھارت پاکستان سندھ طاس معاہدہ سفیر عثمان جدون سندھ طاس معاہدہ اقوام متحدہ پاکستان کے سفیر جدون نے کہا کہ کر رہا ہے انہوں نے پانی کی پانی کے کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔