رجب بٹ سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست، عدالت کے نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہرر (نیوز ڈیسک) لاہور میں معروف یوٹیوبر رجب بٹ سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔
درخواست شہری علی احمد نے اپنے وکیل میاں منیب طارق کی وساطت سے دائر کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملزمان کو ڈکی بھائی کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ نے رجب بٹ کی گاڑی میں گھاٹ لگائی اور ڈکی کے بھائی منیب کو زبردستی اٹھا لیا، رجب بٹ اور مان ڈوگر نے منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈال کر اسے گاڑی میں قید رکھا جبکہ حیدر علی نے پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔
درخواست گزار کے مطابق یہ عمل نہ صرف عوامی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ عوامی امن و امان کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے، ایڈیشنل سیشن جج نے درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔