وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری سے مفتی منیب الرحمن کی اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے ملک میں قیام امن اور استحکام کے لیے مفتی منیب اور دیگر علمائے کرام کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے وفد کو ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مسائل کے حل کا جائزہ لیا جائے گا اور حل کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی، مفتی منیب الرحمن اور دیگر علما گرام بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے، کمیٹی مسائل کے حل کیلئے قابل عمل حل کیلئے سفارشات پیش کرے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن سب کے لئے قابل احترام ہیں اور ہمیشہ اتحاد۔ اتفاق اور یکجہتی کی بات کرتے ہیں، مفتی منیب الرحمن سب کو متحد رکھنے کا کردار ادا کرتے ہیں، ہم سب ایک ہیں اور پاکستان سب سے پہلے ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ علمائے کرام کی پاکستان کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں، مفتی منیب الرحمن نے ملک کی سالمیت۔ ترقی۔ استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔
وفد میں علامہ لیاقت حسین اظہری، مفتی عابد مبارک المدنی اور ملک محمد ابراہیم شامل تھے، وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مفتی منیب الرحمن داخلہ محسن نقوی طلال چوہدری
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔