ڈھاکہ، پاکستانی شہری کی فیملی تنازع کے دوران خودکشی کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ایک پاکستانی شہری کو ڈھاکہ میں فیملی تنازع کے دوران خودکشی کی کوشش سے بچا لیا گیا، بعد ازاں وہ ہیلپ لائن 999 پر کال کر کے مدد طلب کر رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ المیہ کو روکا۔
بنگلہ دیش میں کام کرنے والے ایک پاکستانی شہری کو بدھ کی صبح ڈھاکہ کے سیکٹر 18، اُتارا سے ہنگامی کال کے ذریعے خودکشی کی کوشش سے بچایا گیا۔ کال کے وقت شہری نے بتایا کہ وہ ایکسپورٹ کمپنی میں ٹیکسٹائل انجینیئر کے طور پر کام کرتا ہے اور 4 سال قبل ایک بنگلہ دیشی خاتون سے شادی کی ہے۔ ان کے 2 بچے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ میں اپوزیشن طلبا تنظیم کا الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن دھرنا
شہری نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 200,000 ٹکا کی تنخواہ کے باوجود زیادہ تر آمدنی اپنی بیوی کو دے دی جاتی ہے، جبکہ بیوی مزید مالی مطالبات کرتی رہی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پر غیر حقیقی الزامات لگا کر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔
کال کے دوران وہ روتا رہا اور بتایا کہ ذہنی طور پر دباؤ میں ہے اور خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہیلپ لائن کے آپریٹرز نے اسے پرسکون رہنے، گاڑی روکنے اور قانونی و مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
کال کی بنیاد پر شہری کو فوری طور پر توراگ پولیس اسٹیشن کے انچارج سے جوڑا گیا۔ پولیس کی ٹیم فوراً اس کے رہائشی مقام پر پہنچی، اس کے ساتھیوں اور دوستوں کو اطلاع دی اور اس کی ساس سے رابطہ کیا، جو بعد میں موقع پر پہنچیں۔
خاندان اور جاننے والوں کی موجودگی میں بات چیت کے دوران شہری کی بیوی نے الزام لگایا کہ وہ اکثر رات دیر سے گھر آتا ہے۔ پولیس نے دونوں کے درمیان ثالثی کرائی جس کے نتیجے میں عارضی طور پر صلح ہوگئی۔ اس وقت کسی نے رسمی شکایت درج کرانے پر اتفاق نہیں کیا، البتہ پولیس نے مشورہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر تحریری شکایت کے ذریعے قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
999 ہیلپ لائن پر کال کانسٹیبل بایزید نے وصول کی جبکہ مقامی پولیس کے ساتھ رابطہ سب انسپکٹر صایر احمد نے کوآرڈینیٹ کیا۔ حکام کے مطابق ہنگامی ہیلپ لائن اور پولیس کی بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ انسانی المیے کو ٹال دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش پاکستانی شہری خود کشی کی دھمکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستانی شہری خود کشی کی دھمکی پاکستانی شہری ہیلپ لائن کے دوران بتایا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔