نیتن یاہو بھی ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کا انتظام دیکھنے سے متعلق ٹرمپ کی جانب سے بنائی گئی غزہ بورڈ آف پیس کمیٹی میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ 70 ہزار فلسطینیوں کا قاتل صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شامل ہو گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کا انتظام دیکھنے سے متعلق ٹرمپ کی جانب سے بنائی گئی غزہ بورڈ آف پیس کمیٹی میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش سمیت کچھ دیگر ممالک نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی صدر ٹرمپ کی دعوت کو قبول کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔