آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کو پہلی بار باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایپ بیسڈ ٹیکسی اور آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کو پہلی بار باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں آن لائن رائیڈ بُکنگ کے لیے نیا قانونی فریم ورک متعارف کرانے سے متعلق بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت رائیڈ ہیلنگ سروسز کو منظم کیا جائے گا۔
بل کے مطابق آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز سے وابستہ ڈرائیورز کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجسٹریشن لازم ہو گی اور بغیر رجسٹریشن اسلام آباد میں کسی بھی رائیڈ سروس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے سے قبل باقاعدہ آپریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
قانون کے تحت ڈرائیورز کے لیے درست ڈرائیونگ لائسنس اور خصوصی اجازت نامہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ بھی درکار ہوگا۔ بل میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیاں ڈرائیورز اور گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں گی اور متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کریں گی۔
بل کے متن کے مطابق اس قانون سازی کا مقصد مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا، شفاف نظام قائم کرنا اور رائیڈ ہیلنگ سیکٹر کو باقاعدہ طور پر منظم کرنا ہے۔
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
واضح رہے کہ رائیڈ شیئرنگ سروسز طویل عرصے سے کسی جامع قانونی فریم ورک کے بغیر کام کر رہی تھیں، جس کے باعث انتظامی اور حفاظتی مسائل جنم لے رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رائیڈ ہیلنگ سروسز آن لائن رائیڈ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔