ملک کے شمالی علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بارشوں کے نتیجے میں دریائے کابل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دیر، چترال، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ نوشہرہ اور تربیلا ڈیم کے نشیبی علاقوں میں دریائے کابل کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ این ڈی ایم اے نے ملک کے شمالی علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے، آج سے 24 جنوری تک طاقتور مغربی سسٹم ملک کے بالائی علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بارشوں کے نتیجے میں دریائے کابل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دیر، چترال، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ نوشہرہ اور تربیلا ڈیم کے نشیبی علاقوں میں دریائے کابل کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں دریائے کابل علاقوں میں
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔