کابل میں مہلک دھماکے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ وہاں موجود چینی شہریوں کو سکیورٹی اقدامات سخت کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

China strongly condemns the deadly blast at a Chinese restaurant in #Kabul yesterday. China has urged Afghanistan to make every possible effort to save and treat the injured, do more to keep Chinese nationals, projects and institutions safe, get to the bottom of the attack, and… pic.

twitter.com/lb5UMwvoKN

— CHINA MFA Spokesperson 中国外交部发言人 (@MFA_China) January 20, 2026

چین نے کابل میں داعش کے حملے کے بعد افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو وہاں کا سفر نہ کرنے کی تاکید کی ہے۔ کابل میں چینی سفارتخانے کے مطابق افغانستان میں موجود چینی شہری ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں اور مقامی سکیورٹی حالات پر نظر رکھیں۔

????????Deadly blast rocks Kabul.
An explosion ripped through a hotel in Shahr-e-Naw, killing several and injuring many, Taliban officials confirm. Local reports say the blast struck outside a Chinese restaurant, plunging the area into chaos.#Afghanistan #Kabul pic.twitter.com/jv0NPfTxjG

— Rizwan Shah (@rizwan_media) January 19, 2026

 

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ بیجنگ نے طالبان حکام کے سامنے تحفظات رکھے ہیں اور چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بیان کابل کے علاقے شہرِ نو میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر خودکش حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک چینی شہری کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

داعش خراسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ طالبان حکام نے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا یقین دلایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان چین چینی وزارت خارجہ طالبان کابل دھماکا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان چین چینی وزارت خارجہ طالبان کابل دھماکا

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی