چینی صدر کے پیش کردہ انیشی ایٹوز نے دنیا کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لیے “چینی حل” فراہم کیا ہے، چینی نائب وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
چینی صدر کے پیش کردہ انیشی ایٹوز نے دنیا کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لیے “چینی حل” فراہم کیا ہے، چینی نائب وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز
ڈیووس () چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم 2026 کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔بدھ کے روز حہ لی فنگ نے کہا کہ جنوری 2017 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے ڈیووس فورم میں ایک اہم خطاب کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں شی جن پھنگ نے چار بڑے گلوبل انیشی ایٹوز پیش کیے، جنہوں نے دنیا کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لیے “چینی حل” فراہم کیا ہے۔ انہوں نے فورم سے اپنے خطاب میں چار نکات پر زور دیا:
اول، آزاد تجارت کی مضبوط حمایت کی جائے اور باہمی اشتراک کے ساتھ جامع اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دیا جائے۔ دوم، کثیرالجہتی نظام کا پختہ دفاع کیا جائے اور زیادہ منصفانہ اور معقول بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کی بہتری کو فروغ دیا جائے۔ سوم، تعاون اور مشترکہ مفادات کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے تعاون کے دائرے کو وسعت دی جائے اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ چہارم، باہمی احترام اور مساوی مشاورت کو برقرار رکھتے ہوئے مکالمے کے ذریعے اختلافات سے مناسب انداز میں نمٹا جائے اور مسائل حل کیے جائیں۔
دورے کے دوران حہ لی فنگ نے سوئس فیڈرل صدر اور نائب صدر سے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں، انہوں نے امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور برطانیہ کی وزیرِ خزانہ ریچل ریوز سے بالترتیب چین۔امریکہ اقتصادی و تجارتی مشاورتی میکانزم اور چین۔برطانیہ اقتصادی و مالیاتی مکالمہ میکانزم کے تحت فریقین کے سربراہان کی حیثیت سے ملاقاتیں کیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے سے بڑی خبر ، 97 ملازمین کو ایچ آر ڈی رپورٹ کرنے کے احکامات جاری ، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر۔۔۔۔ چین کی مجموعی قومی پیداوار 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی چین-کینیڈا تعلقات میں دونوں ممالک کو چار شعبوں میں اچھا شراکت دار بننا چاہیے، چینی میڈیا چین وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ، چینی وزارت تجارت ایس ایم تنویر کا قومی معیشت کی تنزلی سے متعلق موقف حقائق کی عکاسی ہے، زاہد اقبال چوھدری حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام کو قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم کردیا پاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔