وزارت داخلہ کو ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارت داخلہ سے کہا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کیے جائیں.
کمیٹی نے وزارت داخلہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اس سفارش پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی ٹیکس نادہندگان کو اسلحہ لائسنس جاری نہ کیا جائے۔
سینیٹ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان اور سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی نے شرکت کی جبکہ سینیٹر محمد عبدالقادر خصوصی مدعو کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، انوشہ رحمان احمد خان، محمد اسلم ابڑو، جان محمد بلیدی، ڈاکٹر افنان اللہ خان اور عبدالشکور خان نے شرکت کی جبکہ آئی جی پی سندھ کی مسلسل غیر حاضری پر سینیٹر دانش کمار نے بطور احتجاج اجلاس چھوڑ دیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے انسپیکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سندھ کی غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سندھ پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
سینیٹر اسلم ابڑو کے بھائی و بھتیجے کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایتکمیٹی نے سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور سندھ و بلوچستان پولیس باہمی رابطے سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں۔
چیئرمین نے ہدایت کی کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے بصورت دیگر متعلقہ آئی جی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
کمیٹی نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا اور وزارت داخلہ کی جانب سے کسی اعتراض کی عدم موجودگی میں بل منظور کر لیا۔
اسی طرح اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (پلاسٹک بک کورز کی ممانعت) بل 2025 بھی منظور کیا گیا جس پر چیئرمین نے ماحول دوست قانون سازی کا خیرمقدم کیا۔
عوام کے ڈیٹا لیک، ڈارک ویب پر دستیابی پر اظہار تشویشاجلاس میں شناختی کارڈ چوری اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔
نادرا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ سنہ 2023 کے بعد سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے اور ڈیٹا لیکج کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
اس کے باوجود ڈارک ویب پر پاکستانی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے سائبر سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
کمیٹی کو سرپرست اعلیٰ، سینٹرل گروپ آف کالجز میاں عادل رشید کے بیٹے کے قتل کیس پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور ملزمان گرفتار ہو گئے ہیں۔
کمیٹی نے پنجاب پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ کو کیس سے متعلق باقاعدہ آگاہ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
اس کے علاوہ بعض افراد کے قومی شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے ذریعے پالیسی کے مطابق تصدیق اور کلیئرنس کی سہولت فراہم کی جائے۔
واٹس ایپ ہیکنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقداماتڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے نے پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے واقعات پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور نئے ادارے کو ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قانون کا پابند بنایا جائے بصورت دیگر ان پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
گاڑیوں کی ای ٹیگنگ، ایم ٹیگنگ پر بریفنگاجلاس میں گاڑیوں کی ای ٹیگنگ اور ایم ٹیگنگ نیز اسلام آباد میں گھریلو سرویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔
کمیٹی نے حساس ذاتی معلومات کے تحفظ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈیٹا پروٹیکشن کے مضبوط اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
ایف بی آر گوداموں سے سگریٹ کاٹن چوری کا نوٹسکمیٹی نے ایف بی آر صوابی اور مردان کے گوداموں سے 2,828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے واقعے کا بھی نوٹس لیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جس میں سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر طلحہ محمود بطور اراکین شامل ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلحہ لائسنس پاکستانیوں کا ڈیٹا لیک ڈارک ویب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ گاڑیوں کی ایم ٹیگنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس پاکستانیوں کا ڈیٹا لیک ڈارک ویب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ گاڑیوں کی ایم ٹیگنگ
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت