چین کیساتھ 4.5 ارب ڈالر کے 78 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے: رانا تنویر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے نتیجے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 78 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 4.5 ارب امریکی ڈالر ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے زرعی اور غذائی شعبوں پر چینی سرمایہ کاروں کے غیر معمولی اعتماد کی عکاس ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سرمایہ کاری کے یہ وسیع اور ٹھوس وعدے محض مذاکرات سے آگے بڑھ کر عملی، سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہیں۔ کانفرنس کو روایتی مباحث کے بجائے براہِ راست بزنس ٹو بزنس میچ میکنگ، ہدفی شعبہ جاتی روابط اور منصوبہ جاتی سرمایہ کاری سہولت کاری کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، تاکہ قابلِ عمل نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے کانفرنس سے قبل بھرپور تیاری کی، جس میں پاکستانی صنعتی اداروں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ منظم روابط شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک