ٹی ٹوئٹی ورلڈ کپ؛ غیر یقینی برقرار، گھڑی کی ٹِک ٹِک بے چینی بڑھانے لگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
گھڑی کی ٹک ٹک بے چینی بڑھانے لگی، ٹی 20 ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی برقرار ہے ، فیصلے کا وقت آ پہنچا، ذرائع کہتے ہیں کہ ٹائیگرز کو بھارت جاکر میچ کھیلنے یا اخراج میں سے ایک راستہ چننے کیلیے بدھ تک کا وقت ملا ہے، دوسری جانب بی سی بی کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی ڈیڈلائن نہیں ملی، صرف میچ سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر جلد جواب دینے کا کہا گیا تھا، مشیر کھیل آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی ایما پر آئی سی سی کا کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے، ہمیں بھارت میں سیکیورٹی خدشات ہیں، اسی لیے ہم میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے، کرک انفو اور بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کو بدھ تک بھارت میں میچز کھیلنے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے، اگر وہ تیار نہیں ہوتا تو پھر ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جاسکتا ہے ،وہ میگا ایونٹ میں کوالیفائی نہ کرنے والی ہائی رینک ٹیم ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے سامنے صرف 2 آپشنز رکھے ہیں یا تو وہ بھارت میں شیڈول اپنے میچز میں شرکت کرے یا پھر ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کیلیے تیار ہوجائے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی جانب سے ایسی کسی ڈیڈ لائن کی تردید کردی۔
کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین نے کہا کہ ہفتے کو آئی سی سی کے ایک نمائندے ڈھاکا آئے، ان کے ساتھ بورڈ حکام کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہم نے کہا کہ کچھ وینیوز پر نہیں کھیل سکتے، اس لیے متبادل سینٹرز کا انتظام کیا جائے، ہم نے اپنے تمام خدشات تفصیل کے ساتھ انھیں بتائے، جس پر انھوں نے کہا کہ وہ ان معاملات سے آئی سی سی کو آگاہ کریں گے ، جو فیصلہ ہوگا وہ ہمیں بتا دیا جائے گا۔
انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ ہمیں جلد آئی سی سی کے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اپنی ٹیم بھارت بھیجنے کے حق میں نہیں ہے، اس کی ہدایت پر بی سی بی نے آئی سی سی سے میچز منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔
مزید پڑھیںبنگلا دیش کے سخت موقف پر پاکستان کو بھی ورلڈ کپ منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑ گئی
بی سی بی کے مشیر کھیل آصف نے کہا کہ اگر آئی سی سی نے بھارتی ایما پر دباؤ بڑھایا تو ہم کسی بھی صورت اس کو قبول نہیں کریں گے، ہم سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجنا چاہتے اور آئی سی سی سے اپنے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کرچکے ہیں، بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈکپ میں شامل کرنے کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔
ادھر ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی سی سی نے فی الحال اسکاٹ لینڈ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ، نہ ہی اسکاٹش بورڈ نے خود سے کوئی دلچسپی ظاہر کی ہے، اسکاٹ لینڈ کے کرکٹ آفیشلز بنگلہ دیش کرکٹ کے احترام میں اس معاملے سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 7 فروری سے شروع ہوگا، گروپ سی میں شامل بنگلہ دیش کوٹورنامنٹ کے اپنے ابتدائی 3 میچز کولکتہ جبکہ ایک میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔
بھارتی میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو میچز کولکتہ اور ممبئی کے بجائے بھارت کے ہی دیگر محفوظ شہروں میں منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی ، تب بی سی بی کا اصرار تھا کہ انھیں بھارت میں اپنے کھلاڑیوں، آفیشلز، شائقین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں، بھارت کے اندر ہی وینیوز کی تبدیلی سے صورتحال تبدیل نہیں ہوگی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ا ئی سی سی اسکاٹ لینڈ بنگلہ دیش بھارت میں نے کہا کہ کریں گے کرنے کی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔