گھڑی کی ٹک ٹک بے چینی بڑھانے لگی، ٹی 20 ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی برقرار ہے ، فیصلے کا وقت آ پہنچا، ذرائع کہتے ہیں کہ ٹائیگرز کو بھارت جاکر میچ کھیلنے یا اخراج میں سے ایک راستہ چننے کیلیے بدھ تک کا وقت ملا ہے، دوسری جانب بی سی بی کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی ڈیڈلائن نہیں ملی، صرف میچ سری لنکا منتقل کرنے کے مطالبے پر جلد جواب دینے کا کہا گیا تھا، مشیر کھیل آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی ایما پر آئی سی سی کا کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گے، ہمیں بھارت میں سیکیورٹی خدشات ہیں، اسی لیے ہم میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے، کرک انفو اور بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کو بدھ تک بھارت میں میچز کھیلنے کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے، اگر وہ تیار نہیں ہوتا تو پھر ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جاسکتا ہے ،وہ میگا ایونٹ میں کوالیفائی نہ کرنے والی ہائی رینک ٹیم ہے۔

 میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے سامنے صرف 2 آپشنز رکھے ہیں یا تو وہ بھارت میں شیڈول اپنے میچز میں شرکت کرے یا پھر ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کیلیے تیار ہوجائے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی جانب سے ایسی کسی ڈیڈ لائن کی تردید کردی۔

کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین نے کہا کہ ہفتے کو آئی سی سی کے ایک نمائندے ڈھاکا آئے، ان کے ساتھ بورڈ حکام کی میٹنگ ہوئی، جس میں ہم نے کہا کہ کچھ وینیوز پر نہیں کھیل سکتے، اس لیے متبادل سینٹرز کا انتظام کیا جائے، ہم نے اپنے تمام خدشات تفصیل کے ساتھ انھیں بتائے، جس پر انھوں نے کہا کہ وہ ان معاملات سے آئی سی سی کو آگاہ کریں گے ، جو فیصلہ ہوگا وہ ہمیں بتا دیا جائے گا۔

 انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ ہمیں جلد آئی سی سی کے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اپنی ٹیم بھارت بھیجنے کے حق میں نہیں ہے، اس کی ہدایت پر بی سی بی نے آئی سی سی سے میچز منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

بنگلا دیش کے سخت موقف پر پاکستان کو بھی ورلڈ کپ منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنا پڑ گئی

 بی سی بی کے مشیر کھیل آصف نے کہا کہ اگر آئی سی سی نے بھارتی ایما پر دباؤ بڑھایا تو ہم کسی بھی صورت اس کو قبول نہیں کریں گے، ہم سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجنا چاہتے اور آئی سی سی سے اپنے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کرچکے ہیں، بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈکپ میں شامل کرنے کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔

ادھر ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی سی سی نے فی الحال اسکاٹ لینڈ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ، نہ ہی اسکاٹش بورڈ نے خود سے کوئی دلچسپی ظاہر کی ہے، اسکاٹ لینڈ کے کرکٹ آفیشلز بنگلہ دیش کرکٹ کے احترام میں اس معاملے سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 7 فروری سے شروع ہوگا، گروپ سی میں شامل بنگلہ دیش کوٹورنامنٹ کے اپنے ابتدائی 3 میچز کولکتہ جبکہ ایک میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔

بھارتی میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو میچز کولکتہ اور ممبئی کے بجائے بھارت کے ہی دیگر محفوظ شہروں میں منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی ، تب بی سی بی کا اصرار تھا کہ انھیں بھارت میں اپنے کھلاڑیوں، آفیشلز، شائقین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں، بھارت کے اندر ہی وینیوز کی تبدیلی سے صورتحال تبدیل نہیں ہوگی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ ا ئی سی سی اسکاٹ لینڈ بنگلہ دیش بھارت میں نے کہا کہ کریں گے کرنے کی

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی