بنگلہ دیش: روہنگیا مہاجر کیمپ میں آتشزدگی، سینکڑوں شیلٹرز تباہ، لوگوں کو محفوظ مقام کی تلاش
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے کوکس بازار کے علاقے میں واقع روہنگیا مہاجر کیمپ میں ہونے والی آتشزدگی کے نتیجے میں 400 سے 500 شیلٹرز مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، جس کے بعد سینکڑوں پناہ گزین محفوظ مقام کی تلاش میں ہیں۔
مقامی فائر سروس اسٹیشن کے حکام کے مطابق آگ منگل کی صبح قریباً ساڑھے تین بجے کے قریب لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی، جس سے آس پاس کے عارضی مکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا
فائر آفیسر کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد 2 فائر فائٹنگ یونٹس بھیجے گئے، فائر فائٹرز نے قریباً 4 گھنٹے تک شعلوں پر قابو پانے کی کوشش کی، جس کے بعد صبح 7:30 بجے صورتحال پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔ تاہم تب تک وسیع پیمانے پر نقصان ہو چکا تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس واقعے میں 4 سے 5 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ ممکنہ طور پر کیمپ کے ایک کچن میں موجود کوکنگ اسٹوو سے لگی، تاہم اصل وجہ کا تعین ابھی کیا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے بتایا کہ اس آگ کے نتیجے میں کیمپ کے 500 سے زیادہ شیلٹرز تباہ ہوگئے، جس سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ حالیہ دنوں میں روہنگیا کیمپوں میں لگنے والی آگ کے سلسلے میں پیش آنے والا تازہ ترین واقعہ ہے۔ اس سے قبل 26 دسمبر کو کیمپ 4 کے ایک اسپتال کو آگ نے تباہ کر دیا تھا، جبکہ ایک روز قبل ایک رجسٹرڈ کیمپ میں ایک اور آگ کے نتیجے میں 10 سے زیادہ شیلٹرز متاثر ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز
حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اب نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں اور متاثرہ پناہ گزینوں کے لیے فوری امدادی اقدامات کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی او ایم آتشزدگی بنگلہ دیش روہنگیا مہاجر کیمپ فائر فائٹر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی او ایم ا تشزدگی بنگلہ دیش روہنگیا مہاجر کیمپ فائر فائٹر وی نیوز روہنگیا مہاجر بنگلہ دیش
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان