سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزاروں کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے۔ گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ سانحہ کے ذمہ داروں کوتعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے۔
درخواستگزار بیرسٹر حسن نے موقف دیا کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ واقعے کی مکمل انکوائری کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے 10 فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کی براہ راست سنگین غفلت، معائنہ میں ناکامی، حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین کو نافذ کرنے میں ناکامی نے انسانی جانوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ شفاف انکوائری کے ذریعے غفلت برتنے والے افسران کی معطلی کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داری کے اصول کے تحت متوفی متاثرین کے خاندانوں کو مناسب معاوضے کی براہ راست ادائیگیاں دی جائیں، مالی نقصانات کے لئے تاجروں اور دکانداروں کو براہ راست ریاستی فنڈ سے معاوضہ دینے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی تعمیل کا حکم دیا جائے۔ عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لئے سندھ فائر سیفٹی ایکٹ 2016 کا سختی سے نفاذ کا بھی حکم دیا جائے۔
درخواستوں میں چیف سیکریٹری، سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ، میئر، کراچی، چیف فائر آفیسر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ڈائریکٹر جنرل سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر، ضلع جنوبی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا حکم دیا جائے کمشنر کراچی براہ راست گل پلازہ
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔