عمارت 1980 میں تعمیر کی گئی تھی اس کے بعد 1998 میں عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی
شاپ ایسوسی ایشن کا صدر تنویر پاستہ ہر ماہ دکانداروں سے ساڑھے 5 ہزار مینٹیننس کے نام پر لیتا تھا

(کرائم رپورٹر اسد رضا) گل پلازہ شاپ ایسوسی ایشن کے صدر اور عہدے داران مارکیٹ میں اگ بجھانے والے الات کہ انتظامات کرتے تو کافی حد تک جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا ۔تفصیلات کے مطابق گل پلازہ سانحہ ایک قومی سانحہ ہے اب تک 25 سے زائد لاشیں عمارت سے نکال لی گئی ہیں جس میں 15 سے زائد لاشیں مکمل باقی جسمانی اعضاء ہیں متعدد زخمی مختلف ہسپتالوں میں پہنچائے گئے جبکہ ابھی تک 50 سے زائد افراد لاپتا ہیں انسانی جانوں کا ضیاع اربوں روپے کا نقصان دکانیں جل کر خاکستر ہو گئی کون ذمہ دار؟ جس وقت گل پلازہ میں اگ لگی خریداری میں مصروف بڑی تعداد میں خواتین اور مرد حضرات پلازہ میں موجود تھے اگ بجھانے کے بروقت نظام نہ ہونے سے بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا گل پلازہ انتظامیہ اور حکمران ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے 1200 دکان جل کر راکھ ہو گئی تاجروں کا اربوں روپے سے زائد نقصان ہوا قانون نافذ کرنے والے ادارے گل پلازہ ایسوسییشن کے صدر تنویر پاستہ سے پوچھیں کہ اس نے پلازہ کے اندر اگ بجھانے والے الات کا انتظام کیوں نہیں کیا ہر دکان سے ساڑھے پانچ ہزار روپے مینٹیننس کے نام پر وصول کرتا تھا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 میں تعمیر کی گئی تھی جبکہ 1998 میں عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی پارکنگ ایریا میں دکانیں بنی اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا نقشے کے مطابق پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اور اسی کے ساتھ ایک ہزار 21 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئیں پلازہ میں 180 دکانیں منظور شدہ نقصے سے زائد تعمیر ہوئی پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں پلازہ کے اندر فائر سیفٹی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلر ایسوسییشن کہ صدر منہاج گلفام کا کہنا تھا گل پلازہ سانحہ میں جو بھی ملوث ہوا جس کی بھی کوتاہی یا غفلت سے یہ واقعہ پیش ایا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اس سانحہ پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: تعمیر کی گئی پلازہ میں گل پلازہ

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف