این آئی سی وی ڈی کے آپریشنل امور کے لیے 15.5 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کے آپریشنل امور کے لیے 15.5 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت این آئی سی وی ڈی کا 84 واں گورننگ باڈی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکریٹری اور سیکریٹریز نے شرکت کی، اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسر طاہر صغیر نے تفصیلی بریفنگ دی۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں این آئی سی وی ڈی سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے، وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی کی قانونی حیثیت بحال کرنے کی منظوری دے دی ، مراد علی شاہ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کو مالی سال 2025-26 میں 3.
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے اب تک 10 ارب روپے کی منظوری دی ہے، این آئی سی وی ڈی کو مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے، انتظامی اور سروس اخراجات میں اضافے کے باعث فنڈنگ گیپ پیدا ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی وی ڈی میں چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کی فوری تقرری کی منظوری دے دی، انہوں نے کہا کہ سی او او اور سی ایف او کی تقرری اوپن مارکیٹ اور مسابقتی عمل کے تحت ہوگی، قانونی ابہام دور کرکے ادارے کو بلا رکاوٹ عوامی خدمت کے قابل بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی نے 200 سے زائد ٹی اے وی آئی (TAVI) پروسیجرز مفت انجام دیے، نجی اسپتالوں میں ٹی اے وی آئی پروسیجر کی لاگت تقریباً 40 لاکھ روپے ہے، این آئی سی وی ڈی کراچی نے 2024 میں 9925 پرائمری اینجیو پلاسٹیز انجام دیں، این آئی سی وی ڈی دنیا کا سب سے بڑا پرائمری اینجیو پلاسٹی سینٹر ہے۔این آئی سی وی ڈی نے پہلی بار بلوچستان میں بچوں کے دل کے علاج کی سہولت فراہم کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے لانڈھی میں ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز پر پیش رفت کا جائزہ لیا، مراد علی شاہ نے کہا کہ لانڈھی میں قائم ہونے والا ادارہ 1200 بستروں پر مشتمل ہوگا، لانڈھی کا کارڈیک انسٹیٹیوٹ دنیا کا سب سے بڑا دل کا اسپتال ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے انضمام اور انتظامی اصلاحات کے لیے بزنس پلان طلب کرلیا جبکہ کے پی ایم جی (KPMG) کی تقرری کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی سی وی ڈی کی منظوری نے کہا کہ ارب روپے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :