عظمیٰ بخاری کا مریم نواز کے حُسن پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حُسن پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔
مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی اس ہفتے پاکستان میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل رہی۔
اس تقریب میں شریف خاندان، شیخ خاندان، مسلم لیگ (ن) کی اہم شخصیات کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازاپنے بیٹے کی شادی کے دوران اپنے ملبوسات اور منفرد انداز کے باعث نمایاں نظر آئیں۔
متعدد فیشن ناقدین اور سوشل میڈیا پیجز نے ان کے انداز اور کپڑوں پر تبصرے کیے، جب کہ کچھ صارفین نے تو یہ دعویٰ تک کردیا کہ مریم نواز نے اپنی بہو شانزے علی روحیل سے توجہ چھین لی۔
حال ہی میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے شادی کے موقع پر ہونے والی تنقید اور مریم نواز کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر ردِعمل دیا۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز پر حد سے زیادہ تنقید کی گئی، لوگوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اتنی اچھی طرح تیار ہو کر آئیں کہ دلہن کو نمایاں ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔
مزید پڑھیںجنید صفدر کی اہلیہ کے بچپن کی ویڈیو وائرل
جنید صفدر کی شادی میں مریم اورنگزیب کی ’ٹرانسفارمیشن‘، والدہ کا بیان سامنے آگیا
انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز قدرتی طور پر بہت خوبصورت خاتون ہیں اور جب بھی وہ سامنے آتی ہیں تو لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتی ہیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اللہ نے انہیں خوبصورتی عطا کی ہے اور ہر عورت کو خوبصورت نظر آنے کا حق حاصل ہے کیونکہ اللہ نے عورت کو اسی طرح بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین مریم نواز کی طرح غیر معمولی طور پر دلکش ہوتی ہیں، کچھ ہم جیسی عام ہوتی ہیں اور کچھ فلٹرز کے استعمال کے باوجود بھی اچھی نہیں لگتیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کوئی انسان پیدائشی طور پر برا نہیں ہوتا، حالات انسان کو ایسا بنا دیتے ہیں، میں کسی کی تربیت پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ ہر والدین اپنے بچوں کو بہترین تربیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
مزید کہا کہ مگر بعض اوقات اچھی تربیت کے باوجود نتائج مایوس کن ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے والدین کو اپنے بچوں پر شرمندگی محسوس ہوتی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز کے کہا کہ
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔