’ہمارا خاندان بڑھ رہا ہے‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ نے چوتھے بچے کی خوشخبری سنادی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ او شا وینس نے اعلان کیا ہے کہ وہ حاملہ ہیں اور جولائی میں ان کا چوتھا بچہ پیدا ہوگا۔ او شا وینس نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کا خاندان بڑھ رہا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’ہم خوش ہیں کہ اوشا حاملہ ہیں اور ہمارے چوتھے بچے کی توقع ہے جو کہ ایک بیٹا ہے۔ اوشا اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں اور ہم جولائی کے آخر میں اس کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں‘۔
We’re very happy to share some exciting news.
— Second Lady Usha Vance (@SLOTUS) January 20, 2026
نائب صدر نے اس دوران خاندان کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملے کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خاص طور پر فوجی ڈاکٹروں کے شکر گزار ہیں جو ہمارے خاندان کا بہترین خیال رکھتے ہیں اور اُن عملے کے بھی جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ہم ملک کی خدمت کرتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار سکیں‘۔
جے ڈی وینس اور اوشا وینس کے تین بچے ہیں۔ جوڑے کے دو بیٹے ایوان اور ویویک اور ایک بیٹی میرابل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’گلے لگانا میری فطرت ہے‘، اریکا کرک کی جے ڈی وینس سے گلے ملنے پر وضاحت
او شا وینس کا تعلق سان ڈیاگو، کیلیفورنیا سے ہے۔ انہوں نے ییل لا اسکول میں جے ڈی وینس سے ملاقات کی اور قبل از نائب صدارت ایک کامیاب قانونی کیریئر بنایا، جس میں Munger Tolles & Olson میں کارپوریٹ لٹیگیٹر کے طور پر خدمات انجام دینا، اور سپریم کورٹ اور اپیل کورٹ میں لاء کلرک کے طور پر کام کرنا شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس بچہ اوشا وینس جے ڈی وینس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اوشا وینس جے ڈی وینس نائب صدر جے ڈی وینس ہیں اور
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔