قدرتی غذائیں وزن کم کرنے میں کیسے مددگار ثابت ہوتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حالیہ طبی تحقیق نے غذا کے انتخاب اور وزن کے تعلقات کے حوالے سے اہم انکشافات پیش کیے ہیں، جو صحت اور خوراک کے شعور رکھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں، غیر پراسیس شدہ اور قدرتی غذاؤں پر مشتمل خوراک اختیار کرنے والے افراد نہ صرف فطری طور پر کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں بلکہ وزن میں بھی قابلِ ذکر کمی دیکھنے میں آتی ہے، چاہے وہ مقدار میں زیادہ کھائیں۔
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے 2019 میں ہونے والے ایک کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار کا دوبارہ جائزہ لیا، جس میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور قدرتی غذاؤں کا موازنہ کیا گیا تھا۔
نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ قدرتی غذائیں استعمال کرنے والے شرکاء نے کھانے کی مقدار میں الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانے والوں سے 57 فیصد زیادہ خوراک لی، مگر مجموعی کیلوریز میں روزانہ اوسطاً 330 کیلوریز کم استعمال کی گئیں۔
دوسری جانب الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانے والے افراد نے روزانہ 508 اضافی کیلوریز حاصل کیں، جس کے نتیجے میں صرف ایک ہفتے میں ان کے وزن میں تقریباً 2 پاؤنڈ اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق سے یہ واضح ہوا کہ زیادہ کھانا ہمیشہ مسئلہ نہیں بنتا، بلکہ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب غذائیں ایسے ہوں جو کم مقدار میں بھی زیادہ توانائی فراہم کرتی ہوں، جیسا کہ الٹرا پروسیسڈ خوراک میں دیکھا گیا۔
محققین نے کہا کہ قدرتی غذائیں نہ صرف کیلوریز کو محدود رکھتی ہیں بلکہ وٹامنز، معدنیات اور غذائی اجزاء کے حوالے سے بھی توازن فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، الٹرا پروسیسڈ غذائیں اگرچہ بعض مائیکرو نیوٹرینٹس دیتی ہیں، مگر توانائی کی مقدار میں اضافے کے باعث وزن بڑھنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
مزید برآں، تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ جب لوگوں کو غیر پراسیس شدہ غذائیں فراہم کی جاتی ہیں، تو وہ فطری طور پر ایسی خوراک کا انتخاب کرتے ہیں جو ذائقے، غذائیت اور پیٹ بھرنے کے احساس میں توازن رکھتی ہے، اور اسی توازن کی بدولت مجموعی کیلوریز کم رہتی ہیں۔ محققین نے کہا کہ یہ نتائج صحت مند غذائی عادات اپنانے اور موٹاپے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے حوصلہ افزا ہیں، اور غذائی منصوبہ بندی میں قدرتی اور غیر پراسیس شدہ غذاؤں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اور وزن کے انتظام کے لیے صرف کم کھانے پر زور دینا کافی نہیں، بلکہ غذاؤں کے معیار اور نوعیت کو ترجیح دینا لازمی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الٹرا پروسیسڈ
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی