بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس: وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: (سب نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کے خلاف دائر کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔


کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے درآمدی پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر ازسرِنو غور کی ہدایات جاری کی تھیں، جس کے خلاف وفاقی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔


سماعت کے دوران ریونیو ڈویژن کی جانب سے حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے 2019 میں آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عائد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی، تجارتی پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔


حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اپنایا کہ دشمن ممالک سے تجارت سے متعلق فیصلے خالصتاً حکومتی اختیار ہیں اور عدالتیں پالیسی پر نظرثانی یا ازسرِنو غور کی ہدایات جاری نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات آئینی اختیارات کی تقسیم کے منافی ہیں اور اگر ایسے احکامات برقرار رہے تو عدالتی مداخلت کا سیلاب آ جائے گا۔


ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بھی ہائی کورٹ کی ہدایات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی پابندی برقرار رکھی جائے، کیونکہ ہائی کورٹ پالیسی معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں۔


عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے فارن پالیسی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019 میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایمان مزاری، ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور، پولیس کو گرفتاری سے روک دیا گیا ایمان مزاری، ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور، پولیس کو گرفتاری سے روک دیا گیا سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، تاریخ میں پہلی بار 5 لاکھ روپے سے متجاوز سانحہ گل پلازہ، اموات کی تعداد 29 ہوگئی؛ لاپتا افراد کی تلاش تک ملبہ نہیں اٹھایا جاسکتا، ڈی سی ساؤتھ سپریم لیڈر پر حملہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا، ایران سعودی عرب، امریکا اور چین کی جانب سے سانحہ گل پلازہ پر اظہارِ افسوس فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اہم پیشرفت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی فیصلہ محفوظ کر لیا وفاقی آئینی عدالت وفاقی حکومت کی ہدایات ہائی کورٹ عدالت نے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا