اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو انکا ملک مکمل تباہ کردیا جائیگا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو انکا ملک مکمل تباہ کردیا جائیگا: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو ان کے ملک کو تباہ کردیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے ایران سے ملنے والی دھمکیوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں وہ ایسا کچھ نہیں کرینگے تاہم میں نے اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے مجھے قتل کیا گیا تو امریکا ایران کو مکمل طور پر تباہ کردے گا۔
ایک حالیہ بیان میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران اموات اور نقصانات کیلئے امریکی صدر ٹرمپ ذمہ دارہیں۔
دوسری جانب چند روز قبل ایک سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرینگے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ میں مزید ترامیم منظور، آئینی عدالت اور اثاثوں سے متعلق بڑی تبدیلیاں قومی اسمبلی سے الیکشنز ایکٹ میں مزید ترامیم منظور، آئینی عدالت اور اثاثوں سے متعلق بڑی تبدیلیاں راولپنڈی: عمران خان نے جیل میں 3 نئے وکالت ناموں پر دستخط کر دیے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا سابق وفاقی وزیر برائے داخلہ راجہ نادر پرویز کے انتقال پر اظہارِ تعزیت بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس: وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ایمان مزاری، ہادی علی چھٹہ کی حفاظتی ضمانت منظور، پولیس کو گرفتاری سے روک دیا گیا سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، تاریخ میں پہلی بار 5 لاکھ روپے سے متجاوزCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مجھے قتل کیا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔