گزشتہ 15 سال کا کاروبار چند لمحات میں ختم، 80لاکھ کا سامان جل گیا، خاتون کی درد بھری کہانی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کراچی:
گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران جہاں سیکڑوں تاجروں کا سامان دکانوں سمیت جل کر خاکستر ہوگیا، وہیں اپنے شوہر کے ساتھ گارمنٹس کا کاروبار کرنے والی خاتون کی درد بھری کہانی بھی سامنے آئی ہے جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی آگ کی نذر ہوگئی۔
انعم نامی خاتون کے شوہر کی گزشتہ 15 سال سے گل پلازہ کے بیسمنٹ میں گارمنٹس کی دکان تھی جہاں ہفتے کے روز ہی لاکھوں روپے کا مال ڈالا گیا تھا۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو میں انعم نامی خاتون نے بتایا کہ 1998 سے شوہر گل پلازہ میں کام کرتے تھے لیکن تقریباً 15 سال سے گارمنٹس کی اپنی دکان تھی۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی؛ اموات میں اضافے کا اندیشہ ہے، پولیس سرجن
لوگوں نے آگ سے بچنے کے لیے چھت کا رخ کیا، مگر دروازے پر تالا تھا، کے ایم سی فائر آفیسر
اگر گیٹ بند تھے تو اتنے سارے لوگ کیسے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، صدر گل پلازہ
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت شوہر اور بچے بھی ساتھ دکان میں موجود تھے، اچانک آگ لگی پھر دھواں بھر گیا اور اندھیرا چھا گیا، ہم نے جلدی میں کچھ بھی نہیں اٹھایا۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ سیزن کی وجہ سے لاکھوں روپے کا مال اس ہی شام دکان میں ڈالا تھا لیکن سب آگ کی نذر ہوگیا، حکومت سے درخواست ہے کہ جلد از جلد کوئی بندوبست کرے۔
انعم نامی خاتون کا کہنا تھا کہ چھوٹے تاجروں کا ذریعہ معاش اس کے علاوہ نہیں ہے، اب گھر کیسے چلے گا۔ کسی دوسری جگہ کاروبار کرنا آسان نہیں کیونکہ اس جگہ پر 15 سال سے کاروبار تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔