آسٹریلین اوپن: ویمنز عالمی نمبر ایک آرینا سبالینکا کی تیسرے راؤنڈ میں رسائی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ویمنز عالمی نمبر ایک آرینا سبالینکا نے آسٹریلین اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں رسائی حاصل کرلی۔
تفصیلات کے مطابق بیلاروسی اسٹار آرینا سبالینکا نے آسٹریلین اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں چین کی بائی ژوژوان کو 3-6 اور 1-6 سے شکست دی۔
2023 اور 2024 میں آسٹریلین اوپن جیتنے والی سبالینکا نے پہلے سیٹ میں 0-5 کی برتری حاصل کرنے کے بعد کچھ وقت کے لیے مشکلات کا سامنا کیا۔
بائی ژوژوان نے مسلسل تین گیمز جیت کر سبالینکا کو دباؤ میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں بیلاروسین کھلاڑی کو پہلے سیٹ کو ختم کرنے میں کچھ وقت لگا۔
تاہم، دوسرے سیٹ میں سبالینکا نے خود کو سنبھالا اور باآسانی اگلے راؤنڈ کے لیے اپنی جگہ پکی کرلی۔
Championship standards on show.
Aryna Sabalenka dominates the second set to move past Bai 6-3 6-1. She advances to the third round at #AO26. pic.twitter.com/lGWP6OoXYF — #AusOpen (@AustralianOpen) January 21, 2026
میچ کے بعد سبالینکا نے بائی ژوژوان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مشکل حریف تھی، اس نے پہلے سیٹ میں بہت اچھا کھیل پیش کرکے مجھے پریشان کردیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب رہنے کے لیے ہر لمحے پر توجہ مرکوز کی اور خود کو یہ کہہ کر حوصلہ دیا کہ بس لڑتے رہنا ہے، اور میں خوش ہوں کہ میں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آسٹریلین اوپن سبالینکا نے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔