عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، کینیڈین وزیراعظم نے گرین لینڈ پر امریکی ٹیرف ناقابل قبول قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ ٹیرف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیاکہ کینیڈا آرکٹک میں سلامتی اور خوشحالی کے لیے بامقصد مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور گرین لینڈ و ڈنمارک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے گا۔
مزید پڑھیں: کیا کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے؟
مارک کارنی نے عالمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور پرانا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ معاشی انضمام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور اگر درمیانی طاقتیں مذاکرات کی میز پر شامل نہ ہوں تو فیصلوں کی زد میں آ جائیں گی۔
مارک کارنی نے کہاکہ ہم کسی عبوری مرحلے سے نہیں بلکہ ایک بڑے بگاڑ سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کینیڈا کو ماضی کے قواعد پر مبنی عالمی نظام سے فائدہ پہنچا، جس میں امریکی بالادستی نے اہم عوامی سہولیات فراہم کیں، جن میں آزاد بحری راستے، مستحکم مالی نظام، اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے حل کے فریم ورک شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ایک نئی حقیقت سامنے آ چکی ہے، یہ ایک ایسا نظام ہے، جہاں طاقتور ممالک معاشی انضمام کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔
بڑی طاقتوں کو خوش کرنے کی پالیسی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہاکہ کینیڈا جیسے ممالک اب یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ محض تابعداری انہیں تحفظ فراہم کرے گی۔
مزید پڑھیں: امریکا اور کینیڈا کے طیارے جلد گرین لینڈ پہنچیں گے، مشترکہ دفاعی کمانڈ کا اعلان
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز ڈیووس پہنچہنچے جہاں گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے ان کا مؤقف یورپی رہنماؤں کے ساتھ شدید کشیدگی کا سبب بن گیا۔
ان کی اس پالیسی کو نیٹو کے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews کینیڈین وزیراعظم گرینڈ لینڈ مارک کارنی ممکنہ ٹیرف ورلڈ اکنامک فورم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کینیڈین وزیراعظم گرینڈ لینڈ مارک کارنی ممکنہ ٹیرف ورلڈ اکنامک فورم وی نیوز مارک کارنی نے عالمی نظام گرین لینڈ کرتے ہوئے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔