پسماندگان کے لیے فوتگی کڑی آزمائش، خیبرپختونخوا حکومت نے کیلاش کمیونٹی کی مشکل آسان کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا اسمبلی نے ضلع لوئر چترال میں آباد دنیا کی نایاب ثقافت کی امین کیلاش برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے بل کی منظوری دے دی جس کے تحت کیلاش برادری کو فوتگی پر حکومت کی جانب سے مالی مدد دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کیلاش برادری کے لیے شادیوں کا قانون تیار، ‘بیوی یا شوہر کے مذہب چھوڑنے پر رشتہ ختم‘
خیبر پختونخوا انڈومنٹ فنڈ (کیلاش برادری) بل 2026 وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے پیش کیا، جسے اسمبلی نے منظور کر لیا۔
’حکومت فوتگی پر پیسے دے گی‘کیلاش انڈومنٹ فنڈ کی ابتدائی مالیت 10 کروڑ روپے ہوگی جس کی نگرانی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کریں گے جبکہ خواتین سمیت کیلاش برادری کے نمائندے کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔
بل کے مطابق فنڈ کے قیام کا مقصد نایاب ثقافت کے پیروکاروں کی مالی معاونت کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: وادی کیلاش سے بین الاقوامی میدان تک: سائرہ جبین نے تاریخ رقم کر دی
سابق صوبائی وزیر اور کیلاش برادری کے رہنما وزیرزادہ نے بل کی منظوری کو انتہائی اہم قرار دیا اور بتایا کہ اس سے کیلاش برادری کی فلاح و بہبود ہوگی۔
وزیرزادہ نے بتایا کہ حکومت نے اس فنڈ کو 10 سے 20 کروڑ روپے تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے جس سے تعلیم، سماجی بہبود اور معاشی خودمختاری کے منصوبوں میں کیلاش برادری کی مدد کی جائے گی جبکہ فوتگی پر آنے والے اخراجات بھی اب حکومت برداشت کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش کمیونٹی کا سب سے زیادہ خرچ فوتگی پر آتا ہے جو لاکھوں روپوں میں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیلاشی جوڑوں کے لیے بڑی خوشخبری، دیرینہ مطالبہ پورا ہونے کی راہ ہموار ہوگئی
وزیرزادہ نے کہا کہ پہلی بار حکومت فوتگی پر پیسے دے گی جو کیلاش برادری کا دیرینہ مسئلہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیلاش برادری میں فوتگی خاندان کے لیے سب سے مہنگی تقریب ہوتی ہے جہاں رسومات کی ادائیگی اور کھانے پر لاکھوں روپے خرچ آتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش برادری میں فوتگی کے موقعے پر وادی بریر، ریمبور اور بمبوریت میں آباد تمام کیلاش افراد کو دعوت دی جاتی ہے۔
وزیرزادہ نے کہا کہ کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ 3 دن تک فوتگی کی رسومات جاری رہتی ہیں اور اس دوران کھانے سمیت تمام اخراجات فوتگی والے خاندان کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جو محدود وسائل کے باعث مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش برادری میں فوتگی کے موقعے پر 30 سے 50 بکرے ذبح کر کے کھانا دیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ پنیر اور دیسی گھی بھی پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیا کیلاش سروے منظر عام پر: ’مستقبل میں کیلاش لڑکوں کو شادی کے لیے لڑکی نہیں ملے گی‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر 30 بکرے بھی ذبح کیے جائیں تو خرچ 10 سے 15 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے جبکہ پنیر اور دیسی گھی کا خرچ الگ ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش برادری میں فوتگی کی رسومات کو خاص اہمیت حاصل ہے اور تینوں وادیوں کے لوگ جمع ہو کر فوت ہونے والے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق فوت ہونے والے کی لاش کو خصوصی جگہ پر رکھا جاتا ہے جہاں وادی کے لوگ جمع ہو کر گیت گاتے ہیں اور ان کی خدمات اور بہادری کے قصے سناتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ عمل 2 سے 3 دن تک جاری رہتا ہے، اور ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا فوتگی والے گھر میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیلاش مذہبی تہوار چاؤموس، جہاں نئے سال کی پیش گوئی لومڑی کرتی ہے
وزیرزادہ نے کہا کہ کیلاش برادری پسماندہ ہے اور زیادہ تر افراد غریب ہیں اور ایسے حالات میں فوتگی کے اخراجات برداشت کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
کمیٹی درخواست کی بنیاد پر پیسے دے گینئے قانون کے مطابق انڈومنٹ فنڈ سے رقم کے حصول کے لیے درخواست دی جائے گی جس پر کمیٹی اجلاس بلا کر درخواست کے مطابق رقم دینے کی منظوری دے گی۔
کیلاش سے تعلق رکھنے والے رحمت کیلاش کے مطابق فوتگی پر اخراجات ان کا سب سے دیرینہ مسئلہ تھا جو اب حل ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلاش مذہب کے مطابق فوتگی پر پوری برادری کو جمع کیے بغیر رسومات کی ادائیگی ممکن نہیں اور جب لوگوں کو بلایا جاتا ہے تو کھانے اور دیگر انتظامات کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیلاش تہوار پوں: فصلیں اور پھل اتارنے پر پابندی کیوں لگ جاتی ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ ان کی رسومات کے مطابق رات کے وقت کھانے میں دیسی گھی اور پنیر کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ صبح کے وقت گوشت پیش کیا جاتا ہے۔
کیلاش ثقافت اور رسوماتکیلاش کمیونٹی چترال کی 3 وادیوں بمبوریت، بریر اور ریمبور میں آباد ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کی سروے رپورٹ کے مطابق کیلاش کی آبادی 4 ہزار کے قریب ہے۔
کیلاش برادری کی ثقافت منفرد ہے اور سال میں کئی تہوار منائے جاتے ہیں جو سرکاری سطح پر بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
کیلاش مذہب کے پیروکار آج بھی صدیوں پرانے عقائد پر عمل پیرا ہیں اور انہی کے مطابق اپنی رسومات ادا کرتے ہیں۔
کیلاش میں فوتگی پر سوگ کا انداز بھی منفرد ہے۔ مرنے والے کے سر پر ٹوپی کو پھولوں سے سجایا جاتا ہے جبکہ ان کا ذاتی سامان بھی ساتھ رکھا جاتا ہے۔
فوتگی پر سوگ روایتی گیتوں پر ثقافتی رقص کے ذریعے منایا جاتا ہے اور پوری کمیونٹی مل کر فوت ہونے والے کی بہادری کے قصے سناتی ہے۔ اس دوران سوگوار خاندان پوری برادری کے لیے کھانے کا اہتمام کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیلاشی زبان معدومیت کے خطرے سے دوچار، ‘مذہب چھوڑنے والے زبان سے تعلق بھی ختم کردیتے ہیں’
رحمت کیلاش نے کہا کہ شادی، پیدائش اور دیگر تقریبات کی نسبت فوتگی پر ہمارا لاکھوں روپے خرچ آتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پختونخوا اسمبلی کیلاش کیلاش کمیونٹی میں فوتگی کیلاش کے لیے انڈومنٹ فنڈ کیلاش میں فوتگی پر مالی امداد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اسمبلی کیلاش کیلاش برادری کے خیبر پختونخوا جاتا ہے جبکہ انڈومنٹ فنڈ کیا جاتا ہے نے کہا کہ کے مطابق ہوتا ہے ہیں اور کے لیے ہے اور
پڑھیں:
کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
فائل فوٹوچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا۔
کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
پشاور میں ایک خصوصی تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے جنگ اور جیو گروپ کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کو خصوصی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ دیا۔
جنگ اور جیو نے 30 اپریل 2025ء کو کوہستان میں سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے کی خرد برد کی خبر بریک کی تھی، کوہستان اسکینڈل ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل تھا۔