زندگی بھر کی جمع پونجی راکھ بن گئی، لیاقت بازار کی آگ نے سینکڑوں خاندانوں کے خواب جلا ڈالے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
آنکھوں کے سامنے زندگی بھر کی کمائی جل کر راکھ ہو جائے تو انسان کے پاس آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ یہی منظر گزشتہ روز کوئٹہ کے دل لیاقت بازار میں واقع نجی علیم پلازہ میں دیکھنے میں آیا، جہاں علی الصبح بھڑک اٹھنے والی خوفناک آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سینکڑوں تاجروں کی برسوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں خاکستر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: علیم پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کا سبب کیا تھا؟
آگ اتنی شدید تھی کہ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ فجر کے وقت شروع ہونے والی اس آگ نے پلازے کے 2 فلور مکمل طور پر جلا ڈالے۔ ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم تنگ راستوں اور آگ کی شدت کے باعث آگ پر قابو پانے میں 8 سے 9 گھنٹے لگ گئے۔ حکام کے مطابق پلازے میں مجموعی طور پر 400 سے 500 دکانیں موجود تھیں، جن میں سے 150 سے 200 دکانیں براہِ راست آگ کی زد میں آ کر مکمل طور پر جل گئیں۔
’یہ قرض کیسے ادا کریں گے؟‘وی نیوز سے بات کرتے ہوئے متاثرہ دکاندار نور نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ وہ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سوشل میڈیا پر آگ لگنے کی خبر دیکھی۔ دل کانپ گیا، فوراً بھائیوں کو جگایا اور پلازے کی طرف دوڑے۔ جب پہنچے تو جس فلور پر ہماری دکان تھی وہاں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ اندر جانا ناممکن تھا، بس کھڑے ہو کر اپنی دکان کو جلتے دیکھتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی نیو سبزی منڈی میں آگ، ڈپٹی میئر کی ہدایت پر فائر بریگیڈ کا فوری آپریشن
انہوں نے بتایا کہ 9 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جب آگ پر قابو پایا گیا تو وہ دکان میں داخل ہوئے، مگر وہاں کچھ بھی سلامت نہیں تھا۔ ہماری کمپیوٹر ایکسیسریز کی دکان تھی، ہر قسم کا قیمتی سامان موجود تھا۔ اندازاً 2.
ایک اور متاثرہ تاجر عزت اللہ نے بتایا کہ پلازے میں ان کی 3 سے 4 موبائل کی دکانیں تھیں۔ ان دکانوں میں قیمتی موبائل فونز اور ایکسیسریز موجود تھیں۔ مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مال جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی تھی جو چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔ اب دوبارہ زندگی کیسے شروع کریں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔
متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ علیم پلازہ میں موجود بیشتر دکانیں متوسط طبقے کے لوگوں کی تھیں، جنہوں نے برسوں محنت کر کے اپنا کاروبار کھڑا کیا تھا۔ آگ نے نہ صرف ان کا سامان جلایا بلکہ ان کے خواب، امیدیں اور مستقبل کے منصوبے بھی خاک میں ملا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، 6 افراد جاں بحق، 60 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم
متاثرین نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مالی امداد، نقصان کا ازالہ اور متاثرہ تاجروں کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
آگ لگنے کی ممکنہ وجہلیاقت بازار کوئٹہ کا قدیم اور مصروف ترین تجارتی مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں خریداروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔
ماضی میں بھی لیاقت بازار اور اس کے اطراف میں آتش زدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ پرانی وائرنگ، حفاظتی انتظامات کا فقدان اور تنگ گلیاں بتائی جاتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال کسی جامع فائر سیفٹی پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیاقت بازار پلازہ میں
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور