آنکھوں کے سامنے زندگی بھر کی کمائی جل کر راکھ ہو جائے تو انسان کے پاس آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ یہی منظر گزشتہ روز کوئٹہ کے دل لیاقت بازار میں واقع نجی علیم پلازہ میں دیکھنے میں آیا، جہاں علی الصبح بھڑک اٹھنے والی خوفناک آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سینکڑوں تاجروں کی برسوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں خاکستر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: علیم پلازہ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا، آتشزدگی کا سبب کیا تھا؟

آگ اتنی شدید تھی کہ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ فجر کے وقت شروع ہونے والی اس آگ نے پلازے کے 2 فلور مکمل طور پر جلا ڈالے۔ ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم تنگ راستوں اور آگ کی شدت کے باعث آگ پر قابو پانے میں 8 سے 9 گھنٹے لگ گئے۔ حکام کے مطابق پلازے میں مجموعی طور پر 400 سے 500 دکانیں موجود تھیں، جن میں سے 150 سے 200 دکانیں براہِ راست آگ کی زد میں آ کر مکمل طور پر جل گئیں۔

’یہ قرض کیسے ادا کریں گے؟‘

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے متاثرہ دکاندار نور نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ وہ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سوشل میڈیا پر آگ لگنے کی خبر دیکھی۔ دل کانپ گیا، فوراً بھائیوں کو جگایا اور پلازے کی طرف دوڑے۔ جب پہنچے تو جس فلور پر ہماری دکان تھی وہاں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ اندر جانا ناممکن تھا، بس کھڑے ہو کر اپنی دکان کو جلتے دیکھتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کی نیو سبزی منڈی میں آگ، ڈپٹی میئر کی ہدایت پر فائر بریگیڈ کا فوری آپریشن

انہوں نے بتایا کہ 9 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد جب آگ پر قابو پایا گیا تو وہ دکان میں داخل ہوئے، مگر وہاں کچھ بھی سلامت نہیں تھا۔ ہماری کمپیوٹر ایکسیسریز کی دکان تھی، ہر قسم کا قیمتی سامان موجود تھا۔ اندازاً 2.

5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کچھ مال ہمارا اپنا تھا اور کچھ ادھار لیا ہوا تھا۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ قرض کیسے ادا کریں، بچوں کا مستقبل کیسے سنواریں۔

’20 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مال جل کر راکھ ہو گیا‘

ایک اور متاثرہ تاجر عزت اللہ نے بتایا کہ پلازے میں ان کی 3 سے 4 موبائل کی دکانیں تھیں۔ ان دکانوں میں قیمتی موبائل فونز اور ایکسیسریز موجود تھیں۔ مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا مال جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی تھی جو چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔ اب دوبارہ زندگی کیسے شروع کریں، یہ سمجھ سے باہر ہے۔

متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ علیم پلازہ میں موجود بیشتر دکانیں متوسط طبقے کے لوگوں کی تھیں، جنہوں نے برسوں محنت کر کے اپنا کاروبار کھڑا کیا تھا۔ آگ نے نہ صرف ان کا سامان جلایا بلکہ ان کے خواب، امیدیں اور مستقبل کے منصوبے بھی خاک میں ملا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، 6 افراد جاں بحق، 60 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم

متاثرین نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مالی امداد، نقصان کا ازالہ اور متاثرہ تاجروں کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

آگ لگنے کی ممکنہ وجہ

لیاقت بازار کوئٹہ کا قدیم اور مصروف ترین تجارتی مرکز ہے، جہاں روزانہ ہزاروں خریداروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

ماضی میں بھی لیاقت بازار اور اس کے اطراف میں آتش زدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ پرانی وائرنگ، حفاظتی انتظامات کا فقدان اور تنگ گلیاں بتائی جاتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال کسی جامع فائر سیفٹی پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لیاقت بازار پلازہ میں

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے