گل پلازہ کے ملبے سے لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں: پولیس سرجن
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں جاری ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران صورتحال مزید دردناک رخ اختیار کر گئی ہے، جہاں اب مکمل لاشوں کے بجائے انسانی باقیات برآمد ہو رہی ہیں، جس نے نہ صرف شناخت کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ لواحقین کی اذیت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
سول اسپتال کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کہا ہے کہ ملبے سے ملنے والی باقیات کی حالت انتہائی خراب ہے، اب تک دو دکانوں سے 21 انسانی باقیات اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ تصدیق ممکن نہیں کہ یہ باقیات 21 افراد کی ہیں یا کم و بیش کتنے متاثرین سے تعلق رکھتی ہیں، صبح سے سول اسپتال میں مکمل لاشوں کے بجائے صرف باقیات ہی لائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور دانت شامل ہیں، جبکہ ہڈیوں کی حالت اس قدر خراب ہے کہ ڈی این اے کے لیے نمونے لینا بھی ممکن نہیں رہا، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہو سکنے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی شناخت اور باقیات کو ورثا کے حوالے کرنے کا عمل شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں جاری سرچ آپریشن کے دوران ایک اور دل دہلا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے، میزنائن فلور سے مزید 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 61 تک جا پہنچی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا کہ دکانداروں کی جانب سے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد وہاں سرچ آپریشن کیا گیا، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، ملبہ ہٹانے کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور اس وقت اولین ترجیح لاشوں اور انسانی باقیات کی بازیابی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ لگنے کے بعد متعدد افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے خود کو دکان کے اندر بند کر لیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی دکان کے اندر کی سامنے آئی تھی، جس سے وہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے۔
کراکری دکان کے مالک سلمان نے بتایا کہ انہوں نے خود اپنی دکان سے 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، دکان میزنائن فلور پر واقع ہے اور حادثے کے وقت ان کے کزن، ملازمین، خواتین اور دیگر افراد بھی وہاں موجود تھے، جو آگ کی شدت کے باعث باہر نہ نکل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی باقیات افراد کی
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر