کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہےکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والےگل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بند کرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔

کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہےکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اب تک دو دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں، ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں، آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ملبے سے اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے، ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔ خیال رہے کہ حادثے میں تین مزید لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے جب کہ 17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ  واقعے میں اب تک تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، باریک بینی سے تحقیقات کی جارہی ہیں، ڈمپر غائب ہونے کی اطلاع غلط ہے۔ کمشنرکراچی کا کہنا ہے کہ رمپا پلازہ کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن عمارت خطرناک نہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کرکے رمپا پلازہ کے خطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ گل پلازہ سانحے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میزنائن فلور رمپا پلازہ کا کہنا ہے گل پلازہ افراد کی دکان سے

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا