آئی سی سی کا مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان، بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے تصدیق کی ہے کہ 2026 مینز T20 ورلڈ کپ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوگا اور بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہی کھیلے جائیں گے۔
آئی سی سی کے مطابق یہ فیصلہ 21 جنوری کو ICC بورڈ کے اجلاس کے بعد لیا گیا، جس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کی درخواست زیر غور آئی کہ اس کے میچ سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
ICC کے مطابق تمام سیکیورٹی جائزوں اور آزاد تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، میڈیا، آفیشلز اور شائقین کے لیے کسی بھی مقام پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مزید برآں، ٹورنامنٹ کے آغاز کے قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور بغیر کسی قابلِ بھروسہ خطرے کے تبدیلی سے مستقبل کے ICC ایونٹس کی غیر جانبداری متاثر ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سب سے دلچسپ 5 میچز جن پر فینز کی نظر ہوگی
ترجمان نے بیان دیا کہ بورڈ نے BCB کے ساتھ مسلسل اور تعمیری مذاکرات کیے، جس میں ایونٹ سیکیورٹی پلان اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ BCB نے ایک کھلاڑی کے ڈومیسٹک لیگ میں شامل ہونے کے ایک الگ واقعے کو وجہ بنا کر شیڈول کی تبدیلی کی درخواست کی، جس کا ٹورنامنٹ سیکیورٹی فریم ورک سے کوئی تعلق نہیں۔
The ICC has confirmed that the Men’s #T20WorldCup fixtures will proceed as scheduled.
Details ????https://t.co/PvpW5NJ1eI
— ICC (@ICC) January 21, 2026
ترجمان نے مزید کہا کہ ہماری شیڈولنگ اور وینیو کے فیصلے میزبان کی ضمانتوں اور تمام 20 ممالک کے لیے یکساں شرائط کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ کسی بھی قابلِ تصدیق سیکیورٹی خطرے کے بغیر میچز کی منتقلی نہ صرف لاجسٹک اور شیڈولنگ کے مسائل پیدا کرے گی بلکہ ICC کی غیر جانبداری کو متاثر کرسکتی ہے۔
آئی سی سی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ عالمی کرکٹ کے مفاد میں اچھے ایمان کے ساتھ مستقل معیار برقرار رکھے گا اور ٹورنامنٹ کی شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنائے گا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی نے ٹی20 مینز ورلڈ کپ کا نیا ترانہ جاری کر دیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو کہا گیا ہے کہ حکومت کو بتادیں اگر ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے تو بنگلہ دیش کی جگہ نئی ٹیم شامل کی جائے گی۔ آئی سی سی نے بھارت میں کھیلنے سے متعلق سوچنےکے لیے بنگلہ دیش بورڈ کو مزید ایک روز کا وقت دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے مطابق ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :