شاہ رخ خان نے سیلفی لینے والے مداح کا موبائل کیوں چھینا؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ریاض میں منعقد ہونے والی ایک ایوارڈز تقریب کے دوران بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کا اسٹیج پر اپنے مداح کے ہاتھ سے موبائل لینا سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
اسٹیج پر مداحوں نے کنگ خان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی تاہم شاہ رخ خان نے موبائل لے لیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
وائرل ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مداح اسٹیج پر شاہ رخ خان کے قریب آ کر سیلفی لینے کی کوشش کرتا ہے، جس پر اداکار مسکراتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے فون لے لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سامنے موجود کیمرہ مین کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جیسے یہ باور کرانا ہو کہ فوٹوگرافی کے لیے پہلے سے انتظام موجود ہے۔ چند لمحوں بعد شاہ رخ خان مداح کو اُس کا فون واپس کر دیتے ہیں۔
اسی دوران ایک اور مداح بھی سیلفی لینے کے لیے آگے بڑھتا ہے، تو شاہ رخ خان اُس کا فون بھی اسی انداز میں لے لیتے ہیں اور اُسے بھی کیمرہ مین کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
View this post on Instagramیہ پورا منظر حاضرین اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے دلچسپی کا باعث بن گیا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا پر ردِعمل منقسم نظر آ رہا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ شاہ رخ خان نے یہ سب تقریب کے پروٹوکول اور سیکیورٹی قواعد کے تحت کیا، اور اُن کا رویہ دوستانہ اور مسکراتا ہوا تھا۔ دوسری جانب بعض صارفین نے اسے غیر ضروری سختی یا تکبر سے تعبیر کیا ہے۔
مختصر سے اس لمحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ شاہ رخ خان جہاں جاتے ہیں، اُن کے ہر عمل پر مداحوں اور سوشل میڈیا کی نظریں لگی رہتی ہیں، اور ایک معمولی سا واقعہ بھی بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا سیلفی لینے شاہ رخ خان
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔