پاکستان اور ترکیہ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے، جبکہ پہلے بھی متعدد ممالک نے اس اقدام پر اتفاق کیا ہے۔

’بورڈ آف پیس‘ کے اہم مقاصد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت غزہ کے مسئلے کا مستقل حل، مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو، فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن کے حصول کو یقینی بنانا شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

تاریخی اہمیت اور ضرورت

تجزیہ کاروں کے مطابق بورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں جاری قتل عام روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور موجودہ بین الاقوامی تقسیم اور دھڑے بندیوں کے تناظر میں ایسے فورمز میں شامل ہونا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ضروری قدم بن چکا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقتور مراکز جیسے امریکا، چین اور روس کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی دھڑے بندیوں میں پاکستان کا کردار منفرد اور اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کی شمولیت کی اہمیت

ماہرین کے مطابق پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ذریعے اپنے غیر جانبدارانہ مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط قائم رکھے گا، جس سے اس کی تزویراتی خودمختاری مضبوط ہوگی۔

پاکستان نے ہمیشہ اصولی اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی ہے، جس میں چین، ہندوستان، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔

پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے، فلسطین کے تنازعات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے، القدس شریف کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے تحفظ کے اصولی مؤقف کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئے فورمز کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی عالمی اہمیت کے لیے خطرناک ہے، جبکہ پاکستان نے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لیے مؤثر اقدامات کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ یہ متحرک کردار عالمی طاقت کے محور میں روزانہ تبدیلی کے تناظر میں قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

بورڈ آف پیس اور ’آئی ایس ایف‘ کا تقابلی جائزہ

حکومت پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت کے حوالے سے واضح اور غیر مبہم موقف اپنایا ہے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے فیصلے میں پاکستان کے قومی مفاد، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور پاکستان و فلسطینی عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا غیر منطقی ہے اور بعض عناصر کی گمراہ کن کوشش کے مترادف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اقوام متحدہ پاکستان ترکیہ سلامتی کونسل غزہ بورڈ آف پیس وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاکستان ترکیہ سلامتی کونسل غزہ بورڈ ا ف پیس وی نیوز ف پیس میں شمولیت بورڈ ا ف پیس اقوام متحدہ بورڈ آف پیس پاکستان نے شمولیت کی کے مطابق کے تحفظ کے لیے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ