ایسٹ منیجمنٹ کپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس سی سی پی) نے ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (اے ایم سی) کو اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی۔
ایس ای سی پی نے مالی شمولیت کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کے لیے جاری اقدامات کے تحت ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (اے ایم سی)کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ پاکستانی رہائشی انفرادی صارفین کے لیے سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹس براہ راست کھول سکیں۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ کم رسک والے اکاؤنٹس ایسٹ مینجمنٹ کمپنیاں (اے ایم سی) اپنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا درخواست فارم کے ذریعے ایک سادہ جانچ پڑتال کے نظام کے تحت کھول سکیں گی۔
اس سے قبل یہ اکاؤنٹس صرف برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس، الیکٹرونک منی انسٹیٹیوٹ یا مقررہ بینکوں کے ذریعے کھولے جاتے تھے۔
مزید بتایا گیا کہ اس توسیعی سہولت کے تحت، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیاں (اے ایم سی) صارفین سے مطلوبہ معلومات حاصل کرکے ضروری تصدیقی عمل مکمل کریں گی اور سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹس کے لیے مقررہ سرمایہ کاری اور لین دین کی حدود پر عمل درآمد یقینی بنائیں گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اضافی معلومات اور دستاویزات کی تکمیل کے بعد سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹ کو سہولت سرمایہ کاری اکاؤنٹ یا سرمایہ کاری اکاؤنٹ میں تبدیل کیا جا سکے گا، جس کے بعد صارفین سہل اکاؤنٹ کی مقررہ حدود سے زیادہ سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (اے ایم سی) کو سادہ کے وائی سی طریقہ کار کے تحت لو رسک والے صارفین کو شامل کرنے میں مدد دے گا، جس سے مائیکرو سیونگ کو فروغ ملے گا اور ملک میں مالی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔
بتایا گیا کہ سہل سرمایہ کاری اکاؤنٹ کم آمدنی والے طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جو ایک آسان اور وقت کی بچت کرنے والا آن بورڈنگ عمل فراہم کرتا ہے اور صارفین کو لورسک والی مختلف مجموعی سرمایہ کاری اسکیموں میں اپنی بچت سرمایہ کاری کا موقع دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایسٹ مینجمنٹ اے ایم سی کے ذریعے گیا کہ کے تحت
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔