پاکستان اور چین نے زراعت اور خوراک سے متعلق کاروباروں میں تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے 79 سرمایہ کاری معاہدے کیے ہیں، جو پاکستان کے زرعی شعبے میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

یہ سرمایہ کاری روزگار کے مواقع بڑھانے، جدید زرعی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا کرے گی۔

10 اہم شعبوں میں سرمایہ کاری

معاہدے 10 بڑے شعبوں میں کیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں۔ خوراک کی پروسیسنگ، زرعی ٹیکنالوجی،  بیج، مویشی اور ڈیری، گوشت اور پولٹری، پھل اور سبزیاں، ماہی گیری، چارہ جات، بعد از فصل ذخیرہ اور  زرعی اجزاء۔

مقامی صنعتیں مضبوط، برآمدات میں اضافہ

وزیر نے کہا کہ 4.

5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملکی معیشت میں اضافے، زرعی صنعتوں کی توسیع اور پروسیس شدہ خوراک و زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مدد کرے گی۔

مزید برآں، مقامی پروسیسنگ کے فروغ سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان خطے اور عالمی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی ہو جائے گا۔

اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے 603 ملین ڈالر کے قرضے

اسی دوران پاکستان اور اسلامک ڈویلپمنٹ بینک (IsDB) نے 3 قرضہ معاہدے کیے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 603 ملین ڈالر ہے۔ ان میں شامل ہیں:

M-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے کا ایک حصہ

انتہائی غریب اور سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے پاورٹی گریجویشن پروجیکٹ (PGEP)

آزاد جموں و کشمیر میں باہر از اسکول بچوں کا پروجیکٹ

عالمی ادارے پاکستان کی ترقی کی شرح میں کمی کی پیش گوئی

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) نے پاکستان کی GDP ترقی کی پیش گوئی 2026 کے لیے 3.6 فیصد سے گھٹا کر 3.2 فیصد کر دی ہے، جس سے ملک کی ساختی معاشی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

تاہم، IMF نے اگلے مالی سال (FY27) میں GDP ترقی 4.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے مطابق عالمی ترقی 2026 میں 3.3 فیصد اور 2027 میں 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

تکنیکی سرمایہ کاری، مالی معاونت اور پرائیویٹ سیکٹر کی لچک عالمی خطرات کو جزوی طور پر کم کر رہی ہے۔

عالمی مہنگائی میں کمی متوقع، لیکن امریکا میں مہنگائی ہدف تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

پاکستان کا ملکی ترقی کا تخمینہ

وزارتِ مالیات کے مطابق پہلے سہ ماہی میں زیادہ ترقی اور بڑے پیمانے کی پیداوار میں بہتری کے بعد ملکی ترقی کی شرح موجودہ مالی سال میں تقریباً 4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ تخمینہ دوسرے سہ ماہی کے اعداد و شمار کے بعد حتمی ہوگا، جسے NAC دو ماہ کے بعد فائنل کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ