سانحہ گل پلازا غموں کی داستانیں چھوڑ گیا، کسی نے بیٹا کھویا، کسی کا بھائی بچھڑ گیا۔

ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر 33 گھنٹوں کے بعد قابو پایا گیا، گل پلازہ میں آتشزدگی کا شکار ہونے والوں کے اہلِ خانہ بے بس  نظر آرہے ہیں۔

گل پلازا آتشزدگی میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ آج بھی اپنے پیاروں کو پکار رہے ہیں، کسی نے اپنا بیٹا کھو دیا، کسی کا بھائی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔

گل پلازہ کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں، تعداد 61 ہوگئی

گل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، جس کے دوران میزنائن فلور کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ اندر پھنسے افراد نے بار بار فون کرکے مدد مانگی، التجا کی کہ اندر شدید دم گھٹ رہا ہے، انھیں فوراً نکال لیا جائے۔

متاثرہ خاندانوں کے مطابق بروقت ریسکیو نہ کیے جانے کے باعث ان کے پیارے زندہ نہ بچ سکے۔ آنسوؤں اور سسکیوں میں ڈوبے اہلِ خانہ کا ایک ہی سوال ہے جب مدد کے لیے پکارا جا رہا تھا تو ریسکیو عملہ کیوں نہیں پہنچ سکا؟

کراچی کے گل پلازہ کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 61 ہوگئی ہے۔

گل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے، جس کے دوران میزنائن فلور کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ گل پلازا کے میزنائن سے 30 لاشیں ملی ہیں، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، لوگوں نے خود کو بچانے کیلئے دکان میں بند کرلیا تھا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ ان افراد کی آخری موبائل لوکشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اطلاع پر تیسرے فلور پر ریسکیو آپریشن وقتی طور پر روکا گیا۔ دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

عمارت سے ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں، سانحہ گل پلازا سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کی ایک دکان سے 30 لاشیں ملیں کا کہنا ہے کہ گل پلازا گل پلازہ

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری