کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن 5 روز سے جاری ہے، لگنے والی آگ سے شدید جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ عمارت کو مکمل طور پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔
گل پلازہ سے ابتک 60 کے قریب لاشیں نکالی جا چکی ہیں ایس ایس پی سٹی پولیس کی نے تصدیق کی ہے کہ میزنائن فلور کی ایک دکان دبئی کراکری سے 20 سے 25 لاشیں ملی ہیں ان لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے یہ صرف ہڈیاں ہیں جبکہ اس تعداد میں اضافہ متوقع ہے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تعداد 100 سے تجاوز کر جائے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اب بھی شہریوں کی جانب سے اپنے لاپتا لواحقین کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات
ریسکیو حکام اس وقت گل پلازہ کے اندر لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس تلاش یا ریسکیو آپریشن کی رفتار انتہائی سست ہے، گل پلازہ سے منسلک ریمپا پلازہ کے حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اسے ریسکیو آپریشن کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے، ریمپا پلازہ کے پلزر کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث آج اس عمارت کے متاثرہ حصہ کو جیک کا سہارا دیا گیا ہے تا کہ آپریشن میں اس عمارت سے مدد حاصل کی جا سکے۔
ریسکیو، نظم و نسق اور ذمہ داری—مئیر کراچی ثابت کر رہے ہیں کہ قیادت کیسے کی جاتی ہے۔
#Karachi #گل_پلازہ #GullPlaza #RescueOperation #کراچی #gulplaza #karachi #SonOfKarachi pic.
— Karachi — the City of Lights. (@KarachiKing07) January 20, 2026
آج گل پلازہ سے انسانی اعضا نکالے گئے ہیں اور ان اعضا کی شناخت کے لیے سیمپلز لیے گئے ہیں، ریسکیو حکام کے مطابق اس وقت عمارت کے اندر کی صورت حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عمارت کی تپش سے مکمل جسم ملنا اب شاید ممکن نا ہو کیوں کہ عمارت کی درجہ حرارت بہت زیادہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریسکیو آپریشن کراچی: گل پلازہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریسکیو ا پریشن کراچی گل پلازہ گل پلازہ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔