سانحہ گل پلازہ، میئر کراچی کی ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) حکام کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے اور ایس بی سی اے و دیگر متعلقہ ادارے مل کر پلازہ میں جیک سسٹم نصب کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب گل پلازہ پہنچ گئے اور آتشزدگی کے واقعے پر جاری ریسکیو آپریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ میئر کراچی نے گل پلازہ کے سامنے موجود تاجروں اور ریسکیو عملے سے ملاقات کی اور ریسکیو و فائر بریگیڈ حکام کو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ جائے وقوعہ پر متعلقہ اداروں نے میئر کراچی کو ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ متاثرہ پلازہ میں 70 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) حکام کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے اور ایس بی سی اے و دیگر متعلقہ ادارے مل کر پلازہ میں جیک سسٹم نصب کریں گے، ایس بی سی اے کی جانب سے عمارت میں کچھ نقص کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں دور کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ مرتضی وہاب نے اس موقع پر زور دیا کہ شہر کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم کا نصب ہونا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن ایس بی سی اے میئر کراچی
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔