سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت کی ناکامی ہے، وزیراعلیٰ و میئر کراچی کو برطرف کیا جائے، علامہ حیات عباس نجفی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ پورے معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کرائی جائیں، فنڈز کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، شہر میں فوری طور پر بلا تعطل گیس فراہمی، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوری طور پر بلا تعطل گیس فراہمی یقینی بنائی جائے، شہر کی عوام کے ساتھ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کا رویہ ناقابلِ قبول، ظالمانہ اور عوام دشمن ہے، غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ، کم پریشر اور کئی علاقوں بشمول ملیر، شاہ فیصل کالونی، لانڈھی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، گلستان جوہر سمیت بیشتر علاقوں میں مکمل بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی اجیرن بنا دی ہے، سدرن گیس کمپنی بھی کے الیکٹرک کی روش پر چل پڑی ہے، عوام کو بھاری بھرکم بلز تھما کر مزید ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، صبح، دوپہر، رات تینوں اوقات میں گیس کی عدم دستیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ گیس انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ادارے کی جانب سے یہ مؤقف کہ گیس کی فراہمی معمول پر آچکی ہے سراسر زمینی حقائق کے منافی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، اگر واقعی صورتحال بہتر ہوچکی ہے تو پھر کراچی کے بیشتر علاقوں میں آج بھی گیس کیوں نہیں؟
انہوں نے کہا کہ گیس کمپنی نے شہر قائد کے مختلف ٹاؤنز اور شہری حکومت کو گیس کی نئی لائنوں کی تنصیب کے بعد سڑکوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے دیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز پراسرار طور پر غائب ہو چکے ہیں، شہری ایک جانب گیس بندش سے پریشان ہیں تو دوسری جانب لائنوں کا کام مکمل ہونے کے باوجود شہر کے بیشتر اضلاع میں سڑکیں آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں اور گل پلازہ جیسے سانحات کا سبب بن رہی ہے، یہ معاملہ صرف نااہلی نہیں بلکہ ممکنہ مالی بے ضابطگی اور بدعنوانی کا سنگین شائبہ بھی پیدا کرتا ہے، بصورت دیگر یہ سمجھا جائے گا کہ شہری و صوبائی حکومت خود اس بدترین لوٹ مار میں شریک ہے، اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے بلکہ عوامی وسائل کے تحفظ میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ و جعلی میئر کراچی کو فوری برطرف کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گیس کی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔