ویب ڈیسک : وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک اہم فلاحی فیصلہ کرتے ہوئے صحت سہولت پروگرام کو مالی سال 2027 تک توسیع دے دی ہے۔

 وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے ہونے والے اس اقدام کے تحت مستحق خاندان سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت سے مستفید ہوتے رہیں گے، جسے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں صحت کی ضروریات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے

پاکستان نے ایک بار پھر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اپنی عملی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے صحت کارڈ پروگرام کو 2027 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس توسیع کے بعد دونوں خطوں کے مستحق خاندانوں کو ملک بھر کے منتخب سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بغیر کسی مالی بوجھ کے علاج کی سہولت میسر رہے گی۔

 حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی کو پورا کرنا اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ صحت کارڈ کی توسیع سے نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف ملے گا بلکہ صوبائی ہیلتھ فنڈز پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو گا اور صحت کے نظام میں تسلسل برقرار رہے گا۔

الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اس کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ صحت سہولت پروگرام کی 2027 تک توسیع کو وفاق اور ان اکائیوں کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس اقدام سے سرحدی اور دور دراز علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف