پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک تعمیری اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اعلیٰ سطح رابطے مسلسل جاری ہیں اور تعاون اب وقتی کے بجائے طویل المدتی بنیادوں پر استوار ہو رہا ہے۔

واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات جن میں جیو اکنامکس، محفوظ سپلائی چینز، جدید ٹیکنالوجی اور کم عسکری اخراجات کے ساتھ شراکت داری شامل ہیں، پاکستان کے معاشی استحکام، سرمایہ کاری پر مبنی ترقی، توانائی تحفظ اور ٹیکنالوجی کی جدید کاری کے اہداف سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشق جاری، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں تقریب کا انعقاد

اس پیشرفت کا ایک اہم اشارہ جنوری 2026 کے وسط میں سامنے آیا جب پاکستان نے امریکی ادارے SC Financial Technologies LLC کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائن (USD1) کو پاکستان کے ادائیگی نظام میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس اقدام کا مقصد تیز، کم لاگت سرحد پار لین دین اور ڈیجیٹل کرنسی کے مجوزہ ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کی سالانہ 38 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر، تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت اور کروڑوں کرپٹو صارفین اس شعبے میں بڑے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

سیکیورٹی کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے مفادات ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال کے بعد خطے میں بڑھتی عسکریت پسندی کے تناظر میں۔ پاکستان میں انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جن کے نتیجے میں ہزاروں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور دہشتگردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

عالمی اسٹریٹجک مسابقت کے باوجود پاکستان امریکا کو اہم اسٹریٹجک شراکت دار اور چین کو کلیدی معاشی پارٹنر کے طور پر دیکھتے ہوئے توازن کی پالیسی پر کاربند ہے۔

ماہرین کے مطابق جیو اکنامکس پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا مضبوط ترین ستون بن سکتی ہے، خصوصاً معدنی وسائل، امریکی سرمایہ کاری، دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے اور ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں کے ذریعے، جو آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

SC Financial Technologies LLC امریکا پاکستان پاکستان اور امریکا معیشت، ٹیکنالوجی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاکستان پاکستان اور امریکا معیشت ٹیکنالوجی پاکستان اور امریکا کے کے تعلقات

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار