شام کی وحدت ہمارے لیے اہم ہے، صدر اردوان نے ٹرمپ پر واضح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بدھ کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں شام اور غزہ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ترکیہ کی حمایت یافتہ شامی حکومت نے امریکا کی اتحادی کرد فورسز کے ساتھ کئی دنوں کی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
شام میں پیش رفت اور کرد فورسز پر دباؤترکیہ صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ترکیہ شام کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور شام کی وحدت، ہم آہنگی اور علاقائی سالمیت ترکیہ کے لیے نہایت اہم ہے۔
واضح رہے کہ اس ہفتے شامی حکومت نے شمال مشرقی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور کرد قیادت میں سرگرم شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کو 4 دن کی مہلت دی ہے کہ وہ مرکزی ریاست میں انضمام پر رضامندی ظاہر کریں۔
یہ بھی پڑھیے شام کی تقسیم ناقابلِ قبول، اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے، رجب طیب اردوان
ایس ڈی ایف کی مرکزی اتحادی امریکا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد اس اتحاد کی نوعیت بدل چکی ہے اور کرد فورسز کو مرکزی ریاست میں ضم ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ترکیہ کا سخت مؤقف: ایس ڈی ایف دہشتگرد تنظیمترکیہ ایس ڈی ایف کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (PKK) سے منسلک سمجھتا ہے، جو گزشتہ 4 دہائیوں سے ترکیہ کے خلاف مسلح بغاوت میں ملوث ہے۔
انقرہ اس وقت PKK کے ساتھ ایک امن عمل میں مصروف ہے، جس کے تحت ترکیہ کا مؤقف ہے کہ اس تنظیم اور اس سے منسلک تمام گروہوں کو غیر مسلح ہو کر تحلیل ہونا ہوگا۔
ترکیہ صدارتی بیان کے مطابق دونوں صدور نے داعش کے خلاف جاری جنگ اور شامی جیلوں میں قید داعش جنگجوؤں سے متعلق بھی بات چیت کی۔
صدر اردوان نے کہا کہ دہشتگردی سے پاک، پرامن اور تمام نسلی و مذہبی عناصر پر مشتمل ترقی یافتہ شام خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
غزہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیالٹیلیفونک گفتگو کے دوران غزہ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ صدر اردوان نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ترکیہ، نیٹو اتحادی امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں امن کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
صدر اردوان نے صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
اس سے قبل منگل کے روز صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی صدر اردوان سے ’بہت اچھی‘ بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ٹرمپ نے اس رابطے سے پہلے کہا تھا کہ یہ گفتگو ’انتہائی اہم‘ ہونے جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان داعش شام غزہ کرد فورسز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کرد فورسز صدر اردوان نے ترکیہ کے کے صدر شام کی ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔