Jasarat News:
2026-07-24@06:38:45 GMT

بورڈ آف پیس: نیا جال لائے پرانے شکاری!

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے لیے بیس نکات پر مشتمل جو امن منصوبہ پیش کیا تھا اب اس کے دوسرے مرحلے کے لیے انہوں نے باقاعدہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا ہے، یہ بورڈ نہ صرف غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گا بلکہ اس کا دائرہ بتدریج بین الاقوامی سطح تک پھیلانے کا وژن بھی پیش کیا گیا ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ نیا ادارہ صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے ایک بڑے عالمی ادارے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں امن کونسل کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات شروع کردیے ہیں اور امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کردیا گیا ہے، بورڈ کے چارٹر میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ’’بورڈ اپنی کارروائی کا آغاز غزہ کے تنازع سے کرے گا اور پھر اسے دیگر عالمی تنازعات تک پھیلا دیا جائے گا‘‘۔ مصر، ترکیہ، اردن، البانیہ، ارجنٹائن، برازیل، کینیڈا اور قبرض کے سربراہان نے دعوت نامے ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم ان ممالک نے اپنی شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی ’’امن کونسل‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ اس منصوبے میں تین اہم ادارے شامل ہوں گے، پیس کونسل جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔ فلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی جو عارضی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ ایگزیکٹو کونسل جو مشاورتی امور انجام دے گی۔ اس کونسل کا بنیادی کام دو سالہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر ِ نو، وہاں سرمایہ کاری لانا، فنڈز کا بندوبست کرنا اور انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ امریکی صدارتی دفتر کے مطابق، اس کونسل کے چیئرمین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہوں گے اور رکن ممالک کی نامزدگی کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا، اگرچہ فیصلے اکثریتی ووٹ سے ہوں گے اور ہر رکن ملک کو ایک ووٹ ملے گا، تاہم تمام فیصلے چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوں گے، جبکہ کونسل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی، اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی تاجر مارک روان، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا، ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل اور دیگر شامل ہوں گے۔ یہ کونسل 15 فلسطینی شخصیات پر مشتمل ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی نگرانی کرے گی جس کے سربراہ سابق فلسطینی نائب وزیر علی شعث ہوں گے۔ بورڈ آف پیس نامی یہ ادارہ اس وقت فعال ہوگا جب کم از کم تین ممالک اس پر دستخط کر دیں گے، ابھی تک صرف ہنگری اور ویتنام نے اس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ اس منصوبے سے متعلق ایک دلچسپ خبر یہ بھی سامنے آئی ہے جو ممالک غزہ امن بورڈ میں 3 سال سے زاید کی رکنیت چاہتے ہیں انہیں ایک ارب ڈالر سے زاید فنڈ دینے ہوں گے۔ چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا، غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کوبھی غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے، جس کی تصدیق کرتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور انداز میں شامل رہیں گے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہیں، پاکستان اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ اپنی سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر کرے گا، جس میں قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ادھر اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ بادی النظر میں ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، غزہ میں قیام ِ امن کے لیے ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیس نکاتی امن منصوبے کا حصہ محسوس ہوتا ہے تاہم مغربی سفارت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ ایک ایسا نیا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر کام کر سکے۔ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار اقوامِ متحدہ پر تنقید کر چکے ہیں اور انہیں اس کی کارکردگی پر بھروسا نہیں ہے۔ ابتدا میں ٹرمپ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کے تحت اس بورڈ کی تجویز دی تھی اس کا مقصد غزہ میں استحکام، حکمرانی اور تعمیر ِ نو میں مدد دینا تھا تاہم، اب سامنے آنے والے نئے منشور میں غزہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی ’’بین الاقوامی تنظیم‘‘ قرار دیا گیا ہے جو دنیا کے ان تمام علاقوں میں امن و امان اور قانونی نظام کی بحالی کے لیے کام کرے گی جہاں تنازعات کا خطرہ ہو۔ اگرچہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بورڈ کے لیے جو مینڈیٹ منظور کیا تھا، وہ صرف غزہ تک اور 2027 کے آخر تک محدود تھا، لیکن ٹرمپ کا نیا منشور نئے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ’’پیس بورڈ‘‘ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد بننے والے عالمی نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے حریف کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’رکن ممالک کسی بھی گروپ میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ اپنا کام جاری رکھے گی‘‘۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم ’’اسلامی جہاد‘‘ نے اسے اسرائیلی مفادات کا تحفظ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے داخلی معاملات ایک آزاد فلسطینی ادارے کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔ غزہ کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے بجائے صرف ’’بزنس مینجمنٹ‘‘ پر زور دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر اس پر بھروسا کرنا مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ میں قیام امن کے نام پر بورڈ آف پیس نامی نئے ادارے کے قیام کی ضرورت کیا ہے؟ امریکا اگر یہ سمجھتا ہے کہ اقوامِ متحدہ دنیا میں امن کے قیام اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے تو اس امر کا برملا اعلان ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو کتنی کامیابی ملتی ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارتی مدت میں جو پالیسی اختیار کی ہے اور وہ جس زبان اور لب ولہجے میں بات کر رہے وہ کسی بھی طور ایک مہذب اور بھر پور عسکری صلاحیتوں کے حامل ملک کے صدر سے کسی طور ہم آہنگ نہیں، ایک طرف وہ امن کے نوبل انعام کے آرزو مند ہیں مگر دوسری جانب انہوں نے فوجی کارروائی کے ذریعے ایک آزاد اور خودمختار ملک وینزویلا کی آزادی و خود مختاری کو پامال کردیا، انہوں نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی، گرین لینڈ پر قبضے کا عندیہ دیا، حماس پر قیامت ڈھانے کے بیانات دیے، ایک پینل انٹرویو میں کہتے ہیں کہ میرے لیے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے، کوئی چیز جو مجھے روکتی ہے وہ صرف میری اپنی اخلاقیات ہیں، اس طرز عمل اور اس نوع کے عزائم کے ساتھ بورڈ آف پیس کا قیام ایک سعی لاحاصل اور پانی پر لکیر کھینچنے کے مترادف ہے۔ بورڈ آف پیس قیام امن نہیں بلکہ ٹرمپ کے تجارتی طرزِ سیاست کا حصہ ہے۔ ٹرمپ اگر فی الواقع اور دنیا میں امن کے خواہاں ہیں تو انہیں خود اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی اور اسرائیلی جارحیت کے سد ِ باب اور امن معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دینا چاہیے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ ا ف پیس کے لیے ا ٹرمپ کے کے قیام غزہ کے امن کے گیا ہے ہوں گے کرے گا

پڑھیں:

آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھکمی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکہ اس کے جواب میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹر مپ نے  لکھا کہ آج سے اگر اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس کے بدلے میں ایران کا ایک پل یا ایک پاور پلانٹ تباہ کرے گا، جن میں تہران کے اندر یا اس کے قریب واقع تنصیبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ ہفتے  ایک انٹرویو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آیا تو امریکا اس کے تمام پل تباہ کر دے گا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل